ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 116
114 (۳) اس کا حکم اس مفقود الخبر کی طرح ہے جو اسلامی حکومت میں عدم پتہ ہوا ہوئیں کا حكم تفصیل کے ساتھ پہلے بیان ہو چکا ہے۔(۴) بیوی کے عقد کے بارہ میں وہ مقتول تصور کیا جائے گا اور میراث کے حق میں اس کا وہی حکم ہو گا جو اسلامی حکومت میں مفقود النخیر کا ہے یعنی اس کے مال کی تقسیم میں اتنی مدت انتظار کی جائے گی جتنی مدت میں وہ عام حالات میں فوت ہو سکتا ہے۔آزادی کے بعد اختیار اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ جب لونڈی غلام کی بیوی ہو تو اسے آزادی کی فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے۔لیکن اگر وہ آزاد مرد کی بیوی ہو تو اس صورت میں فقہاء میں اختلاف ہے۔امام مالک - شافعی فقہاء مدینہ - اوزاعی - احمد اور لیست کا یہ مذہب ہے کہ آزاد مرد کی بیوی کو آزادی کے بعد فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہے۔امام ابو حنیفہ اور ثوری کا مذہب یہ ہے کہ خواہ اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام دونوں صورتوں میں اسے فسخ نکاح کا اختیار ہے۔وجہ اختلاف یہ اختلاف حدیث بربرہ میں اختلاف کی بناء پر ہے کیونکہ حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق بریرہ کا خاوند غلام تھا۔اور حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق اس کا خاوند آزاد تھا۔محدثین کے نزدیک یہ دونوں روایتیں اصول روایت کے لحاظ سے درست ہیں۔اس اختیار کے وقت میں بھی اختلاف ہے۔امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس کو فسخ نکاح کا اختیار صرف اس صورت میں ہو گا جب کہ خاوند نے اس سے تعلقات زوجیت قائم نہیں گئے لیکن اوزاعی کے نزدیک تعلقات قائم کرنے کے بعد اس کا شیخ نکاح کا اختیار اس صورت میں ساقط ہو گا۔اگر وہ پہلے سے یہ جانتی ہو کہ تعلقات کے قیام کے بعد اس سے اختیار ساقط ہو جاتا ہے۔