ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 99
٩٩ (۲) اس اختلاف کا دوسرا سبب یہ ہے کہ مریض پر یہ الزام عائدہ ہوتا ہے کہ اس نے نکاح کر کے اپنے ورثار میں ایک اور وارث کا اضافہ کر دیا ہے۔اور اس طرح اپنے دیگر ورثاء کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔مریض کے نکاح کو قصبہ پر قیاس کرنے کے متعلق این ارشد رکھتے ہیں کہ یہ قیاس درست نہیں ہے کیونکہ مریض کے صبہ کے متعلق تو سب کا اتفاق ہے کہ وہ اپنی جائداد کے ی حصہ کا ہبہ کر سکتا ہے لیکن مریض کے نکاح کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ وہ مطلقاً جائز نہیں ہے پس جب ان دونوں میں ماثلت نہیں ہے تو یہ دونوں ایک دوسرے کی دلیل کس بن سکتے ہیں۔عدت میں نکاح اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ عدت میں نکاح جائز نہیں ہے۔عدت خواہ حیض کی ہو یا محل کی یا مہینوں کی۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص عدت میں نکاح کرلے اور تعلقات زوجیت بھی قائم کرلے تو کیا یہ نکاح قائم رہے گا یا نہیں ؟ امام ابوحنیفہ - شافعی ثوری کا مذہب یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کی جائے گی اور عدت گزرنے کے بعد اگر دونوں دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ بعض کے نزدیک اے عزت سے مراد وہ عرصہ ہے جو عورت طلائی کے بعد یا خاوند کے مرنے کے بعد گزارتی ہے اور اس میں سہی دو سے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔یہ عرصہ مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔مثلاً وہ عورت جیسے حیض آتا ہو اور اسے طلاق ہو گئی ہو تو اس کی عدت تین حیض ہے۔وہ عورت جو حاملہ ہو اگر اسے طلاق ہو جائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو اس کی عدت چار مہینے اور دس دن ہے۔اگر کوئی ایسی عورت ہو جیسے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت طلاق کی صورت میں تین ماہ ہے، اور بیوہ ہونے کی صورت میں چار ماہ دس دن۔