ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 24 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 24

۲۴ معروف سے یہ استدلال کرتا ہے کہ اس میں عورتوں کو اپنا نکاح آپ کرنے کا پورا حق حاصل ہے یہ درست نہیں ہے۔اس کے ظاہر معنی سے تو زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر خود بخود اپنا نکاح کرلے تو اس کو اس غلطی پر سلامت مت کرو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر یہ نکاح دستور کے مطابق نہ ہو تو ولی اس کو منسوخ نہیں کر سکتا۔شریعت کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ عورت کا نکاح اس کے معیار کے مطابق ہو اور اس میں دیگر شرائط نکاح کی بھی پابندی ہو۔پس اگر ولی یہ سمجھے کہ یہ نکاح کفو میں نہیں ہوا اور نکاح کی دیگر شرائط مثلاً حق مہر یا گواہان کے متعلق شریعت کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوا تو اس صورت میں ولی کو اختیار ہے کہ وہ اس نکاح کو کالعدم قرار دیدے۔دوم :- دوسرا فریق جو یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ آیت آن يَنكِحُنَ اَزْوَاجَهُنَّ اور حَتَّى تَنْكِحَ زَ و جَاغَيْرَہ میں فعل نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کے بارہ میں عورتوں کو خصوصی حق حاصل ہے۔یہ بھی درست نہیں۔کیونکہ یہ استدلال صرف اس صورت میں درست ہو سکتا ہے جب کہ اس خصوصیت کے خلاف کوئی اور دلیل موجود نہ ہو نہیں جب اس خصوصیت کو باطل کرنے والے دیگر دلائل موجود ہیں تو اس صورت میں یہ خود بخود نہ اٹل ہو جاتی ہے جب یہ ثابت ہو چکا کہ اولیاء کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے تو اس بارہ میں عورتوں کی خصوصیت قائم نہ رہی۔سوم : حضرت ابن عباس کی روایت سے جو استدلال پیش کیا گیا ہے وہ بھی درست :- نہیں ہے۔یہ روایت تو صرف نیب اور پکر کے حقوق میں فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ور نہ جب یہ مان لیا جائے کہ یہ دونوں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتیں تو پھر الايْمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِن دکھا کا حکم دے کر شیبہ کو اس حکم سے مستثنیٰ