ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 5 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 5

چنانچہ صدیقی میں مروی ہے کہ فاطمہ بنت قیس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بیان کیا کہ میرے پاس ابو جہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے پیغام نکاح بھیجا ہے۔آپ کے اس بارہ میں کیا مشورہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ ابو جہم ایسا شخص ہے جو عورتوں کو ہر وقت پیٹتا رہتا ہے اور معاویہ ایسا شخص ہے جو کنگال ہے اور اس میں کوئی وجہ کشش نہیں پائی جاتی۔اس لئے تم ان دونوں کو چھوڑ کر اسامہ سے نکاح کر لو۔نکاح سے قبل منگیتر کو دیکھنا بعض علماء کے نزدیک منگیتر کو نیکان سے قبل دیکھنا منع ہے لیکن امام مالک کے نزدیک اس کے چہرہ اور ہاتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کے پاؤں بھی دیکھ سکتے ہیں۔البتہ بعض فقہاء کے نزدیک ایسی کوئی قید نہیں ہے۔وجه اختلاف وجہ اختلاف یہ ہے کہ بعض روایات میں مطلقاً ممانعت اور بعض ہیں مطلقاً اجازت وارد ہوئی ہے۔اور بعض روایات سے جزوی اجازت ثابت ہے۔یعنی صرف چیر اور ہاتھوں کو دیکھنے کی اجازت ہے اور اکثر فقہاء کا مسلک یہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ارشاد الہی وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا میں چہرہ اور ہاتھ شامل ہیں۔اور قیاس بھی یہی ہے کہ اس قدر حصہ دیکھا جائے ہے۔کیونکہ حج کے موقعہ پر یہ حصے ظاہر کرنے جائز ہیں۔جو لوگ ممانعت کی طرف جاتے ہیں وہ اصل حکم کی طرف جاتے ہیں جس کے مطابق غیر محرم عورتوں کو دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔درست مذہب یہی ہے کہ منگیتر کو دیکھنا جائز ہے۔جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے جب یہ کہا کہ اس نے ایک انصاری عورت کو شادی کا پیغام بھیجا ہے۔تو آپ نے اسے یہ ہدایت فرمائی کہ اسے پہلے دیکھ لو۔کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھ میں عام طور پر نقص ہوتا ہے۔(نسائی کتاب النکاح باب اباحة النظر قبل التروت) اس سے معلوم ہو اکہ بعض حالات میں نکاح سے قبل اپنی منسوبہ کو دیکھتا نہ صرف جائز بلکہ مناسب بھی ہے۔سے ترجمہ : اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں۔سوائے اس کے جو آپ ہی آپ بے اختیار ظاہر ہوتی پر ہو۔( نورع ۴)