ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xxxix of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xxxix

اس سے ہر امام نے کیا حقہ فائدہ اٹھایا۔اور اپنے اپنے وقت کے حالات کے مطابق آزاد اجتہاد سے اپنی مشکلات کا حل تلاش کیا۔علامہ ابن رشد کی کتاب بدايته المجتهد میں مبتدی سے لے کہ منتھی تک ہر ایک کے لئے ایسی واضح مثالیں موجود ہیں کہ انکے ڑھنے سے ہر شخص اس نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے کہ اس کے لئے شریعت کا دامن ایسا کو تاہ نہیں کہ کسی ایک مقام پر جا کر وہ اسے مایوس کر دے اور اس کی مزید راہ نمائی سے انکار کر کے اسے تذبذب کے تنگ و تاریک غار میں پھینک دے۔اس کتاب کے ترجمہ کی پہلی جبکہ قارئین کے ہاتھ میں ہے۔اور اور اس ترجمہ کے متعلق ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔کہ وہ آسان ہو اور اس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہ رہے جہاں جہاں علامہ ابن رشد نے دقیق اور فلسفیانہ بخشیں کی ہیں۔وہ محمداً ترک کر دی گئی ہیں۔منطقی اور فقہی اصطلاحوں کو چھوڑ کر ان کے اصل مفہوم کو لے لیا گیا ہے۔قرآن مجید کی آیا نند اور احادیث کا آسان ترجمہ حاشیہ میں دے دیا گیا ہے نیز آیات اور احادیث کا حوالہ سبی حاشیہ میں دیا گیا ہے۔بعض مسائل ضروریہ کے متعلق حاشیہ میں نوٹ دے دیا گیا ہے۔تا کہ قارئین کرام کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔اور اصل مسئلہ واضح ہو جائے۔ترجمہ کے اس حصہ میں علامہ ابن رشد کی کتاب کی چند خصوصیات واضح طور پر محسوس کی گئی ہیں۔جن کا تذکرہ مشانوں کے ساتھ پیش کرنا اس جگہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔علامہ ابن رشد کے دادا مالکی المذہب تھے۔چنانچہ فقہ مالکی کی کتاب مدونتہ کی شرح بھی انہوں نے لکھی ہے علامہ ابن رشد سبھی مالکی مذہب سے متاثر تھے لیکن اس کے باوجود جہاں انہوں نے محسوس کیا کہ حق دوسرے اماموں کے ساتھ ہے۔وہاں انہوں نے بے تخصصی کے ساتھ دیگر ائمہ کی قوت استدلال کو تسلیم کیا ہے۔مثلاً ۳۷