ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 248 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 248

۲۴۸ کی تعمیل ایک قسم کی عبادت ہے۔نواں اختلاف یہ ہے کہ غلام کے ایلار کا حکم بھی وہی ہے جو آزاد کے ایلاء کا حکم ہے یا اس سے مختلف ہے ؟ امام مالک کے نزدیک غلام کے ایلاء کی مدت دو ماہ ہے یعنی آزاد سے تصرف مدت اس میں حدود اور طلاق کے احکام پر قیاس کیا گیا ہے۔امام شافعی اور اہل ظاہر کے نزدیک غلام کا ایلاء بھی آزاد کے ایلاء کی طرح ہے اس لئے اس کی مدت بھی چار ماہ ہوگی۔انہوں نے قرآن مجید کے عمومی حکم کو ملحوظ رکھتا ہے۔نیز قسم کے معاملہ میں چونکہ آزاد اور غلام دونوں برابر سمجھے جاتے ہیں اور ایلار بھی ایک قسم کی قسم ہے اس لئے ان دونوں کا ایک ہی حکم ہونا چاہیئے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایلاء میں عورت کی بہت کو دیکھا جائے گا نہ کہ مرد کو یعنی اگر عورت آزاد ہوگی تو ایلاء کی مدت چھار ماہ ہو گی خواہ اس کا خاوند غلام ہو یا آزاد۔لیکن اگر عورت کنیز ہو گی تو اس کے ایلاء کی مدت دوماہ ہوگی خواہ اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام۔گویا امام ابو حنیفہ کا مذہب غلام کے ایلاء کے متعلق بھی وہی ہے جو اس کی عورت کے متعلق ہے اور امام صاحب نے عدت کا قیاس غلام کی حد پر کیا ہے۔لیکن ابن رشد یہ کہتے ہیں کہ یہ قیاس درست نہیں ہے کیونکہ حق پر قیاس کرنے کی غرض تو یہ تھی کہ غلام کے مجرم کی قباحت آزاد کے جُرم کی قباحت سے کمتر ہے اس لئے اس کی سزا بھی آزاد سے نصف رکھی گئی ہے۔لیکن اس جگہ یہ غرض مفقود ہے کیونکہ غلام کا ایلار اور آزاد کا ایلا ہیلی قط قسم کے دونوں مساوی ہیں اس لئے ان میں فرق کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ابن رشد اس مذہب پر مزید جرح اس طرح کرتے ہیں کہ ایلاد کی مدت مقرر کرنے کی دو اغراض مد نظر رکھی گئی ہیں۔