ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 231
۲۳۱ ام ولد کے متعلق امام مالک شائعی۔احمد بیت اور ابو ثور کا مذہب یہ ہے کہ اس کی عدت ایک حیض ہے۔امام مالک کے نزدیک اگر وہ ایسی عورت ہے کہ اسے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ماہ ہوگی اور اسے رہائش کے اخراجات دئیے جائیں گے۔امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب اور ثوری کے نزدیک ام ولد کی عدت تین حیض ہے۔یہی قول حضرت علی اور ابن مسعود کا ہے۔اور ایک گروہ کے نزدیک اس کی عدت اس آزاد عورت کی عدت سے نصف ہے جس کا خاوند فوت ہوچکا ہو۔ایک گروہ کے نزدیک اس کی عدت آزاد عورت کی عدت کے برابر بینی چار ماہ دس دن ہے۔امام مالک کے مذہب کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ وہ زوجہ بھی نہیں ہے اور مطلقہ بھی نہیں ہے اس لئے اس کی عدت ان دونوں سے مختلف ہوگی۔چونکہ مقصد حضرت رحم کا پاک ہوتا ہے اور وہ ایک حیض سے بھی ہو جاتا ہے اس لئے اس کی عدت ایک حیض ہوگی کیونکہ اس کی مثال اس لونڈی کی طرح ہے جس کا آقا فوت ہو چکا ہے۔امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ وہ نہ زوجہ ہے نہ لونڈی ہے۔اس لئے نہ وہ عدت وفات گزاریگی نہ عدت کنیز (لونڈی نہیں لازم آیا کہ وہ آزاد عورتوں کی طرح اپنے رحم کو پاک کرے اور وہ کم از کم مدت تین حیض ہے۔وہ لوگ جو اس کے لئے عدت وفات یعنی چار ماہ دس دن قرار دیتے ہیں۔وہ ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں جس کو عمرو بن العاص نے بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے له ام ولد سے مراد وہ لونڈی ہے جس کے ہاں اس کے آقا کے نطفہ سے بچہ پیدا ہو وہ اپنے آف کی وفات کے بعد آزاد ہوتی ہے۔