ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 210
۲۱۰ قائم نہ کرے۔جمہور کا استدلال حدیث رفاعہ سے ہے۔اور وہ یہ ہے:۔عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ القُرَ فِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كُنتُ عِندَرِفَاعَةِ الْفُرَظِي فَطَلَّقَنِي فَبَتْ طَلَاتِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ واتَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَقَالَ أَتُرِيْدِ بْنَ أَنْ تُرْجِعِي إلى رِفَاعَةُ ؟ لَا حَتَّى تَذُونِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ سعيد بن المسیب کا مذہب یہ ہے کہ وہ محض نکاح سے ہی پہلے خاوند کے لئے حلال ہو جاتی ہے۔خواہ اس کے ساتھ تعلقات زوجیت قائم ہوئے ہوں یا نہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم عام ہے۔حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَ اس میں ر نکاح کا ذکر ہے اور نکاح صرف عقد کا نام ہے اکثر فقہاء کے نزدیک میاں بیوی کے اعضاء مخصوصہ کے مل جانے سے ہی وہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہو جاتی ہے۔یعنی دوسرے خاوند سے طلاق حاصل کر کے یا اس کی وفات کی صورت میں وہ پہلے خاوند سے نکاح کر سکتی ہے۔لیکن حسن بصری کے نزدیک اعضاء کے ملنے کے علاوہ انزال بھی شرط ہے جمہور کی دلیل یہ ہے کہ دیگر تمام احکام صرف میاں بیوی کی شرمگاہوں کے ملنے سے لاحق ہو جاتے ہیں۔مثلاًاحد کا واجب ہونا۔روزہ یا حج کا فاسد ہونا۔له ترجمه: - حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رفاعہ کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکس آئی۔اور بیان کیا کہ میں پہلے رفاعہ کے عقد میں تھی اس نے مجھے متفرق اوقات میں نین طلاقیں دے دیں۔اس کے بعد کیسے عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کر لیا۔وہ اپنی مردمی کمزوری کے باعث تعلقات زوجیت قائم نہیں کر سکتے۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا تم چاہتی ہو که دوباره رفاعہ سے نکاح کر لو ؟ اس کے بعد آپ خود ہی فرماتے ہیں کہ تم ایسا نہیں کر سکتی جب تک ایک وستر کے ساتھ تعلقات زوجیت قائم نہ ہو جائیں (اس روایت کو محدثین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے دیوانہ متقی جلد مثلا) ترجمہ : - دیر اگر خاوند اسے تیسری طلاق دیدے) تو وہ عورت اس کے لئے جائز نہ ہوگی جب تک کہ وہ اس سکھ سوار کسی دوسرے خاوند کے پاس نہ جائے۔(بقرہ (۲۴۴)