ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 154
۱۵۴ جواز خلع اکثر علماء کا مذہب یہ ہے کہ ضلع شریعت میں جائز ہے۔اس کی دلیل قرآن مجید اور حدیث سے ماخوذ ہے۔به قرآن مجید سے دلیل اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد ہے۔فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ حدیث سے دلیل حضرت ابن عباس کی روایت ہے۔أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَعَلَّم فقالتْ يَا رَسُولَ اللهِ ثَابِتُ ابْنُ قَيْسِ لَا أُعِيْبُ عَلَيْهِ فِى خُلق ولا دين ولكن الرَهُ الْكُفْرَ بَعْدَ الدَّخُولِ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْبِلِ الْحَدِيقَةَ کے وَطَلِقُهَا طَلْقَةً وَاحِدَةً له اس روایت کی صحت کے متعلق سب کا اتفاق ہے لیکن ابو بکر بن عبدالله للرینین نے جمہور کے مذہب سے اختلاف کیا ہے۔ان کے نزدیک خاوند اپنی بیوی سے کوئی چیز واپس نہیں لے سکتا۔ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ ترجمہ:- وہ عورت جو کچھ بطور فدیہ دیگر (آزاد ہونا چاہے) اس کے بارہ میں ان دونوں میں سے کسی کو گناہ نہ ہو گا۔(بقره ع (۲۹) ه ترجمه: - ثابت بن قیس کی بیوی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ یا رسول اللہ یکن ثابت بن قیس کے اخلاق یا دین پر کوئی الزام عالمہ نہیں کرتی۔بلکہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد اس کی نافرمانی کو ناپسند کرتی ہوں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا کیا تم اس کو اس کا یا کچھہ واپس کرنے کو تیار ہو اس نے کہا ہاں ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو فرمایا کہ اپنا یا غیچہ لے لو اور ا سے ایک طلاق دے دو۔د بخاری باب الخليج وكيف الطلاق فيه )