ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 153 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 153

IAM تیسرا باب لع خلع کے اصطلاحی معنی یہ ہیں کہ عورت اپنی طلاق کے عوض تمام وہ مال اپنے خاوند کو واپس کر دے جو اس سے وصول کر چکی ہے یا ان مطالبات کو ترک کردے جو اس کے خاوند کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ضلع کے ہم معنی بعض اور الفاظ بھی استعمال ہوتے ہیں۔مثلاً فدیہ - ملح - مباراة ان الفاظ کے معنی بھی قریب قریب وہی ہیں جو ضلع کے ہیں لیکن ان میں معمولی فرق ہے۔مثلاً جہاں ضلع میں تمام مال واپس کیا جاتا ہے صلح میں بعض مال کی واپسی ہوتی ہے۔اور فدیہ میں واجب سے زائد مال واپس کرنا پڑتا ہے۔اور مباراة میں وہ تمام حقوق ترک کئے جاتے ہیں جو خاوند کے ذمہ واجب الادا ہیں۔مسئلہ ضلع کے متعلق چار امور پر الگ الگ بحث کی جائے گی۔(1) ضلع کا جواز یا عدم جواز۔(۲) جواز کی صورت میں اس کے وقوع کی شرائط (۳) ضلع حکماً طلاق ہے یا فتح نکاح (۴) ضلع کے متعلق دیگر احکام۔اه در حقیقت خلع کا حق عورت کو دیا گیا ہے جیسا کہ طلاق کا حق مرد کو دیا گیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ مرد خود بخود طلاق دینے کا مجاز ہے لیکن عورت صرف حاکم وقت یا قاضی کی وساطت یا اپنے میاں کےساتھ باہمی رضامندی سے ضلع حاصل کر سکتی ہے لیکن اس آزادی کی قیمت عورت کو ادا کرنی پڑتی ہے۔مثلاً اگر اس نے حق مہر وصول کر لیا ہو تو خاوند کے مطالبہ پر وہ اسے واپس کرنا ہوگا۔یا اگر اس نے ابھی وصول نہیں کیا تو اس کا مطالبہ چھوڑنا پڑے گا۔یہ آزادی کی قیمت کس قدر ہو اس کے متعلق شریعت نے کوئی خاص حکم نہیں دیا۔اس کا حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔مثلاً وہ ایسی رقم ہو جس پر فریقین رضامند ہو جائیں۔یا حاکم وقت یا قاضی حالات کے مطابق خود فیصلہ فرمائے کہ عورت ایک معینی مفت را درقسم کی واپس کر کے یا اپنا مطالبہ ترک کر کے خاوند کے تعلق سے آزاد ہو سکتی ہے۔