ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 131 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 131

۱۳۱ اور اگر حضرت عمرؓ اس سے صلحہ منع نہ فرما دیتے تو کوئی بد بخت ہی ایسا ہوتا جو زنار کے قریب جاتا۔یہ روایت حضرت ابن عباس سے ابن جریج اور عمرو بن دینار نے بیان کی ہے منگنی پرمنگنی اگر نکاح ایسا ہوجو منگنی پرمنگنی کر کے کیا گیا ہو تو اس کے متعلق تین اقوال بیان کئے گئے ہیں :- (1) نکاح فسخ ہو گا۔(۲) نکاح فسخ نہ ہو گا۔(۳) اگر دوسری منگنی۔پہلی منگنی میں طرفین کے میلان اور تکمیل کے قریب پہنچنے کے بعد ہوئی ہو تو نکاح نفع ہو گا ورنہ نہیں یہ امام مالک کا مذہب ہے۔نکاح حلالہ وہ نکاح جو اس غرض سے کیا گیا ہو کہ تین طلاقوں کے بعد وہ عورت پھر پہلے خاوند کے لئے حلال ہو جائے اور حالی تشکر زوجا هیرہ کی شرط پوری ہو جائے۔یعنی دوسرے شخص کی نیت اس عورت کو اپنے پاس رکھنے کی نہ ہو۔بلکہ طلاق دینے والے کے لئے دوبارہ نکاح کرنے کے امکان پیدا کرنے کے لئے ہو یہ شرکا نا جائز ہے۔امام مالک کے نزدیک ایسا نکاح فسخ ہو گیا۔لیکن امام ابو حنیفہ اور امام شاهی کے نزدیک یہ نکاح صحیح ہو گا۔یعنی اگر وہ اس نکاح پر ہمیشہ قائم رہنا چاہیں تو جائز ہے انہیں جدید نکاح نہ کرنا پڑے گا۔وجہ اختلاف یہ اختلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد تحت الله المحول کے مفہوم میں اختلاف کی بنا پر ہے۔ے حلالہ کے نکاح کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناجائز قرار دیا ہے۔اور ایسا نکاح کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے دونوں پر لعنت ڈالی ہے۔اس کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نکاح تو انسان است کرتا ہے کہ تا دونوں کے درمیان ہمیشہ محبت اور الفت کے تعلقات قائم رہیں۔نیک اولاد پیدا ہو جو والدین کے لئے محمد و معاون ہو لیکن حلالہ میں یہ غرض مد نظر نہیں ہوتی نہ تو ان دونوں کے دل میں ایک دوسر کے لئے رغبت ہوتی ہے نہ دو اسی تعلق کی خواہش۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ کام جو خود حرام ہے دوسرے کے لئے حلال کرنے والا ہو۔جو خو د نجس ہے دوسرے کے لئے ظاہر کرنے والا ہو۔چونکہ یہ غیرت کے تقاضا کے خلاف ہے اسی طرح فلسفہ نکاح کے بھی خلاف ہے اس لئے اسلام نے اس کا ناجائز قرار دیا ہے