ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 127
۱۲۷ پانچواں باب ممنوع اور فاسد نکاح وہ نکاح جن کے متعلق صراحت نہیں وارد ہوئی ہے وہ چار قسم کے ہیں۔(۱) شغار (۲) متعہ (س) منگنی پر منگنی (۴) حلالہ اب ہم ان کے متعلق الگ الگ تفصیلی بحث کریں گے۔ا نکاح شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا کسی زیر ولایت نکاح شغار لڑکی کا نکاح اس شرط پر کیسے کہ دوسرا شخص بھی اپنی لڑکی اس کے مقابلہ میں اسے دے۔اور ان دونوں کا ہر مقرر نہ ہو بلکہ وہ دونوں لڑکیاں ہی ایک دوسرے کے حق مہر کے مقابلہ میں ہوں۔اس پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ نکاح جائز نہیں ہے کیونکہ اس بارہ میں واضح لے اس جگہ ممنوع سے مراد وہ نکاح ہیں جو مطلقاً حرام اور باطل ہیں جیسے نکاح متعہ اور نکاح حلالہ۔اور قاسیر تکاتوں سے مراد وہ نکاح ہیں جن میں کسی ایک شرط میں خرابی ہو۔ایسے نکاحوں میں جب تک اس خرابی کو رفع نہ کیا جائے وہ جائز نہیں ہوتے۔جب اس خرابی کو رفع کر دیا جائے تو جائز ہو جاتے ہیں جیسے نکاح شغار و غیره۔سے نکاح شغار کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات صحابہ کرام کے واسطہ سے منقول ہیں۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الصفار۔که رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے شخار سے منع فرمایا ہے۔اسی طرح حضرت انسؓ فرماتے ہیں قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ که اسلام میں نکاح شغار جائز نہیں ہے (محلی ابن حزم جلد و شاه (۵۱۳) رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے ان ارشادات کے علاوہ اسکی مانعت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ایسے کا وارکے قارچ بالعموم اچھے نہیں ہوتے۔باہم مناقشت اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور بالآخر ان دونوں کے درمیان خلع یا طلاق تک نوبت پہنچتی ہے۔لہذا ان امور کو محوظ رکھتے ہوئے اسلام اس قسم کے نکاح کو جائز قرار نہیں دیا۔ہاں جب دونوں طرت سے مہر مقرر ہو تو اس صورت میں چونکہ ہر دو کے حقوق متعین ہوتے ہیں اس لئے ایسی صورت میں جھگڑے کے امکان کم ہوتے ہیں۔اس لیے یہ شکار کے حکم میں نہیں ہو گا۔