ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 89
ہذا ایک گروہ کے نزدیک ان کا ایک عقد میں جمع کرنا منع ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ اگر متوفی کی ایک بیوی کو مرد تصور کیا جاوے تو متوفی کی دوسری بیوی کی لڑکی کسی غیر مرد کی بیٹی ہوگی جو شر کا جائز ہے۔اس لحاظ سے ایک گروہ کے نزدیک ان دونوں کو ایک عقد میں جمع کرنا جائز ہے لیے لونڈی سے شادی اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ لونڈی سے غلام شادی کر سکتا ہے۔اسی طرح آزاد عورت بھی غلام سے شادی کر سکتی ہے۔بشرطیکہ وہ عورت اور اس کے اولیاء اس پر راضی ہوں۔آزاد مرد لونڈی سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے۔نے اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل نقشہ سے واضح کیا جاتا ہے۔صور اول کی اگر دونوں طرفوں میں سے کسی ایک طرف کو مرد تصور کیا جائے تو ان دونوں کا آپس میں نکاح شرعاً منع ہو مثلاً : زینب کی پھوپھی زینب اس میں اگر زینب کو مرد اور زینب کی پھوپھی کو عورت تصور کیا جاوے تو یہ پھوپھی اور بھتیجے کا رشتہ بن جاتا ہے۔لیکن اگر اس کے بیکس ہو تو اس صورت میں چچا اور بھتیجی کا رشتہ بن جاتا ہے ایسے دورشتوں کو آپس میں جمع کرنا منع ہو گا صورت دوم- ایک شخص بکرہ زید کے مرنے کے بعد فاطمہ اور زینب کو اپنے عقد میں جمع کرنا تريد چاہتا ہے تو ایک گروہ کے نزدیک یہ جائز نہ ہوگا (بیوی) زینب کیونکہ اگر ف احمد کو لڑ کا تصور کیا جائے تو تر تیب اس کے باپ کی بیوی ہے۔چونکہ باپ کی بیوی سے نکاح فاطمه حرام ہے اس لئے ان دونوں کا جمع کرنا بھی حرام ہے۔بسنده (بیوی) لیکن اگر زینب کو مرد سمجھا جائے تو اس کے لئے فاطمہ ایک غیر شخص کی لڑکی ہے اس لئے اس کے ساتھے اس کا نکاح ہو سکتا ہے۔بعض کے نزدیک ان دونوں کے کو جمع کرتے ہیں کوئی روک نہیں۔