ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 55 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 55

۵۵ اور اُن کے اصحاب کا ہے۔اہم مالک کے نزدیک مسئلہ اول میں خاوند کو تین اختیارات دیئے جائیں گے (1) بیوی کو مہر مقرر کئے بغیر طلاق دیدے (۲) عورت کے مطالبہ کے مطابق اس کا مہر مقرر کرے (۳) مہر مثل مقرر کرے۔وجہ اختلاف یہ بحث اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اختلاف کی بناء پر ہے۔لا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ اوْ تَقْرِضُ وَ الَهُنَّ فَرِيضَةً (بقروع ٣١) بعض کے نزدیک یہ آیت جہر کے سقوط کے متعلق ایک عام حکم بیان کرتی ہے خواہ طلاق کی وجہ مہر مقرر نہ کرنے کا معاملہ ہو یا کوئی اور وجہ ہو۔نیز اس آیت میں گناہ کی نفی سے مراد یہ ہے کہ طلاق دینے والے پر مہر واجب نہیں ہے یا اس کا کوئی اور مطلب ہے اس کے متعلق امام ابن رشد کہتے ہیں کہ میرے نزدیک ظاہر مفہوم تو ہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسی صورت میں طلاق دینے والے پر مہر واجب نہیں ہوتا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَمَتعُوهُنَّ عَلَى الْمُوْسِع قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْدِرِ قدرة (بقره ) ابن رشد کہتے ہیں کہ میرے علم میں اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کوئی شخص مہر مقرر کرنے سے قبل طلاق دیدے تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے۔نیز ابن رشد کہتے ہیں کہ جو اس بات کے قابل ہیں کہ اگر کوئی شخص تعلقا زوجیت سے قبل اپنی بیوی کو طلاق دیدے جبکہ نکاح کے وقت اس کا حق مہر مقرر ہو چکا ہو تو اس صورت میں خاوند پر نصف مہر کے علاوہ کچھ اور امداد بھی کرنی ہوگی جو نقدی یا کپڑوں کی صورت میں ہو۔اور وہ لوگ جو اس بات چھے بھی قائل ہیں کہ جس نکاح میں ہر مقرر نہیں ہوا وہاں مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ان پر یہ واجب ہے کہ وہ ایسے نکاح میں اگر مجامعت سے قبل طلاق ہوئی ہو تو زائد سامان کے علاوہ مہر مثل کا نصف بھی دلوائیں کیونکہ کے ترجمہ :۔اور چاہئے کہ تم انہیں مناسب طور پر کچھ سامان دے دو۔دولتمند پر اس کی طاقت کے مطابق لازم ہے۔اور نادار پر اس کی طاقت کے مطابق - دیقور ع اس)