ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 50
۵۰ اس اختلاف کی بنا یہ ہے کہ نکاح بیچ کے مشابہ ہے یا نہیں۔جو لوگ اسے بیچ کے مشابہ قرار دیتے ہیں وہ ادائیگی مہر کو غیر معین عرصہ تک معلق رکھنے کے قائل نہیں ہیں کیونکہ جس بیچ میں قیمت کی ادائیگی کا عرصہ نہ ہو وہ بیع مجہول ہوتی ہے جو شرعا نا جائز ہے جو لوگ اسے بیچ کے مشابہ قرار نہیں دیتے وہ مہر کی ادائیگی کو غیر معین عرصہ تک معلق رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔جو لوگ نکاح کو ایک عبادت خیال کرتے ہیں ان کے نزدیک حق مہر نقد ادا کرنا ضروری ہے۔کیونکہ جب تک عبادت کے جملہ شرائط مکمل نہ ہوں اس وقت تک عبادت مکمل نہیں ہوتی۔حق مرا وجوب تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ حق مہر کی ادائیگی تعلقات کب ہوتا ہے زوجیت کے قیام کے ساتھ یا کسی فریق کی موت کے ساتھ واجب ہو جاتی ہے۔تعلقات زوجیت کے ساتھ حق مہر کے وجوب کی دلیل اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد ہے وَ إِنْ أَرَدْتُم استبدال زَوْجٍ كَانَ زَوْجِ وَأَتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا (نساء ع٣) زوجین میں سے کسی ایک کی موت کے ساتھ حق مہر کی فوری ادائیگی کے واجب ہونے کی کوئی دلیل نہیں ملتی سوائے اس دلیل کے کہ اس پر امت کا اجماع ہے۔تعلقات زوجیت کے متعلق یہ اختلاف ہے کہ اس سے مراد صرف خلوت بھیجو ہے یا جماع امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک صرف فلوت صحیحہ سے کل ہر واجب نہیں ہوتا بلکہ نصف مہر واجب ہوتا ہے لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک خلوت صحیحہ سے لے اگر تم ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی سے نکاح کرنا چا ہو اور تم نے ان میں سے کسی ایک کو ڈھیروں ڈھیر مال دیا ہو تو تم اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔(نساء ع (۳) سے خلوت صحیحہ سے مراد یہ ہے کہ میاں بیوی کو علیحدگی کا اس رنگ میں موقعہ مل جائے کہ کوئی دوسرا شخص ان کے درمیان خارج نہ ہو۔