ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page ix
ملے کیونکہ اس کے بغور مطالعہ سے اجتہاد کی استعداد پیدا ہو سکتی ہے۔طلع (س) با حموم فقہ کی کتب میں فروعی مسائل جمع کر دیئے جاتے ہیں۔ان کے پڑھتے والا یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ کسی فرعی مسئلہ کو کس اصول کے ما تحت مستنبط کیا گیا ہے اور کیا بیان کردہ مسئلہ کا کوئی مخالف پہلو بھی ہے یا نہیں اگر ہے تو اسے بیان کرنے والا کس اصول سے اخذ کرتا ہے۔ابن رشد نے اپنی کتاب میں اس مقلدانہ طرز کو ترک کر کے نیا اسلوب بیان اختیا ر کیا ہے۔انہوں نے مسلہ کے مخالف اور موافق پہلو کو بیان کر کے ہر ایک مذہب کے تائیدی دلائل بیان کر دیتے ہیں۔اور ساتھ ساتھ ترجیحی مذہب کی نشان دہی کر دی ہے۔اور اگر ان کو بیان کردہ مسائل میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اتفاق نہ ہو۔تو انہوں نے اس مسئلہ میں اپنا نیا اجتہاد پیش کر کے اختلاف بیان کو دلائل سے واضح کیا ہے چنانچہ کتاب کی اس خصوصیت کو ابن رشد ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:۔نہ اس کتاب میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم شریعت کے متفق علیہ اور مختلف فیہ مسائل بیان کر دیں۔کیونکہ ان دونوں قسم کے مسائل کی واقفیت کے بعدی مجتہد اس اصول کو معلوم کر سکتا ہے جس کے پیش نظر وہ اس اختلاف کو رفع کریتی ہے۔اگر ان مسائل کی واقفیت کے ساتھ ساتھ فقہاء کے اختلافات کے مکل و اسباب بھی ذہن نشین ہو جائیں۔تو انسان ہر جدید حادثہ کے متعلق شرعی فتوے دینے کے قابل ہوسکتا ہے ہے اللہ تعالے کا یہ ارشاد ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے سوا کسی کی بات بلادل نة بداية المجتهد و ٣٣٣ که بداية المجتهد ۲۳۲۵