ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page x of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page x

میں تسلیم نہ کی جائے۔خود ائمہ اربعہ نے بھی اپنے پیروؤں کو یہ ہدایت کی ہے۔کہ وہ کتاب و سنت کے مقابلہ میں ہماری رائے کو قابل قبول نہ سمجھیں۔لیکن اس وقت عام مسلمانوں کے ذہن پر تقلید کا بھوت اس شدت سے سوار ہو چکا تھا کہ وہ اپنے ائمہ کی ان ہدایات کو بھول چکے تھے۔اور بلا دلیل و محبت فرعی مسائل اپنی کتابوں میں نقل کرنے لگے تھے۔اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اللہ تعالے کی بعید سے ڈرانے لگے تھے ، ابن رشد کی وسعت نظر آپ سے معلوم ہوتی ہے کہ معروف اور غیر معروف ہر قسم کے الحمد کے مذاہب اس کتاب میں موجود ہیں۔امام مالک کے اصحاب میں سے ابن القاسم - اشہب سخنون - ابن الملا جنون علاوہ ازیں امام اونیفه ن کے صحا بنام شانس اور اے صحات بیج این نعمتی عطاربن بیماری ابو ثوره امام ثوری اور سفیان بن مینی اورامی - امام احمدبن جنین - امام داود ظاہری۔فقیہ ابوالی ابن ابی لیلی۔ابن جریر عرض تابعی اور غیر تابعی ہر قسم کے اللہ کے اقوال اس کتاب میں نقل کر دیتے ہیں۔اور پھر پیر ایک کے دلائل بھی واضح طور پر بیان کئے ہیں۔اگر کسی مسئلہ میں صحابہ نے اختلاف کیا۔پر ہے۔تو اختلاف مع وجہ بیان کیا ہے۔یہی وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے امام مبین کی کتاب مقبول عام ہوئی۔اور ان کا درجہ اجتہاد مخالف و موافق نے تسلیم کیا یہی وہ خصوصیات ہیں۔جنہوں نے ہمیں اس کتاب کا ترجمہ شائع کرنے پر مجبور کیا ہے۔اللہ تعالے سے دعا ہے کہ جس طرح اس نے اصل کتاب کو مقبولیت بخشی ہے۔اسی طرح وہ اس کے ترجمہ کو بھی شرف قبولیت بخشے۔اور اس کے پڑھنے والوں کی صحیح راہ نمائی فرمائے آمین امام ابن رشد نے مختلف علوم ثالاً فلسفہ طلب علم کلام - فقہ اصول فقہ۔علیم نخور اور عظیم بیت پر بہت سی کتب تصنیف کی ہیں۔اور ان میں سے اس وقت جو مختلف لائبریریوں میں موجود ہیں۔ان کی تعداد ۷ ہے تعقیب نے ہر زمانہ میں نادر روزگار ہستیوں کو نشانہ ظلم و ستم بنایا ہے۔اس سے علامہ ابن رٹ بھی مستلنے نہ رہے اوریہ العصر بند رشد A