ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 28
۲۸ بقيه حضرت ابن عباس سے لا نكاح الاً پوری کی جو روایت بیان کی گئی ہے اس کے متعلق یہ اختلاف ہے کہ کیا یہ مرفوع بھی ہے یا نہیں ؟ پس اس غیر یقینی روایت حضرت عائشہ ور کے متعلق یہ خیال کہ وہ نکاح کے لئے ولی کی اجازت کو ضروری خیال نہ فرماتی تھی بہیقی کی ایک روایت کی بناء پر ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔عَن عَائِشَةَ أَنَّهَا زَوَّجَتْ حَفْصَةً بنتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الرُّبَيْرِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ غَائِب بالشام - کہ حضرت عائشہ نے حفصہ بنت عبدالرحمن کا نکاح منددین نے بیر سے کیا جب کہ عبد الرحمن شام گئے ہوئے تھے۔IAY اس کا جواب خود بہقی نے یہ دیا ہے کہ اس روایت میں " زوجت " کا مطلب یہ ہے کہ ممَّدَتْ اسْبَابَ التَّزْوِي وَأَضِيفَ النِّكَاحُ البُهَا لِاخْتِيَارِهَا ذلِكَ کہ اپنے نکارج کے انتظامات کئے۔اس طرح نکاح کی اضافت آپ کی طرف ہی کر دی گئی کیونکہ آپ کو تمام انتظامات کا اختیار دیا گیا تھا ر بیہقی جو النصب الراية جلد ۳ ص ) نے یہ اعتراض کہ ابن عباس کی روایت کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے درست نہیں کیونکہ اسکی تائید دوسری روایات سے بھی ہو رہی ہے چنانچہ حضرت عائشہ کی روایت کے متعلق پہلے مفصل بحث گزر چکی ہے۔وہ روایت حضرت ابن عباس کی روایت کی تائید کرتی ہے اور اس کو نسائی کے سوا باقی سب صحاح نے بیان کیا ہے۔اس کے علاوہ اس روایت کو ابو بردہ نے ابو موسی کے واسطہ سے رسول کریم ملی تیر علیہ کو کم سے بیان کیا ہے۔اور اسے ابو داؤد۔تریزی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے۔اسی طرح طبرانی نے حضرت باہر سے مرفوعا۔اور دارقطنی نے عبداللہ ابن مسعود سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔پس جبکہ ابن عباس کی روایت کی تائید دیگر متعدد روایات سے ہو رہی ہے تو اس صورت میں اس اعتراض کی کوئی حقیقت نہیں رہتی کہ حضرت ابن عباس کی روایت کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے حق تو یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کی روایت بھی بعض محدثین نے مرفوع سند سے نقل کی ہے۔اور اس کی رجال کو ثقہ قرار دیا ہے۔چنانچہ دار قطنی میں یہ روایت مندرجہ ذیل سند سے منقول ہے۔عن عبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عَدِي بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خَيْم عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرِ عَنِ ابن عباس۔اس سند کے متعلق دارقطنی نے لکھا ہے کہ یہ مرفوع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔دار قطنی کتاب النکاح ص۳۸۲) اسی طرح طہرانی نے اس روایت کو مکن ابی یعقوب بن ابی نجیح عن عطاء عن ابن عباس نقل کیا ہے اور یہ سند بھی مرفوع ہے لہذا یہ اعتراض کسی رنگ میں بھی درست نہ رہا کہ اس روایت کے مرفوع ہوتے ہیں اختلاف ہے۔