ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page vii of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page vii

قاضی القضاۃ مقرر کر دیا گیا۔ابن رشد نے قاضی القضاۃ کے عہدہ پر فائز ہوتے کے بعد فقہ کا رخ ہی بدل دیا۔وہ تمام اہم امور میں اجتہاد سے کام لیتے۔اور جدید ملکی تقاضوں کے پیش نظر فروعی مسائل میں خود اپنے اجتہاد سے فیصلے کرتے ابن رشد کے اس اجتہاد نے مالک گیر شہرت حاصل کی چنانچہ اسی اثر کے تحت یوسف بن عبد المومن کی وفات کے بعد جب اس کا بیٹا یعقوب منصور تخت نشین ہوا۔تو اس نے اپنے زمانہ کے فقہاء کو حکم دیا کہ کسی امام یا مجتہد کی تقلید نہ کریں بلکہ خود اپنے اجتہاد سے فیصلہ کریں بچنا نچہ تمام عدالتوں میں فروع فقہ کی پابندی اٹھا دی گئی۔اور جو فیصلہ کیا جاتا۔قرآن مجید حادیث۔اجماع اور قیاس کی مدد سے ائمہ فقہ کی آمار دوشنی میں کیا جاتا اور کسی خاص امام کی تقلید کو ضروری نہ سمجھا جاتا چنانچہ علامہ ابن خلکان اس زمانہ کے حالات قلمبند کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔یہ ہمارے زمانہ میں مغرب سے جو علماء آئے۔مثلاً ابو الخطاب بن دحیہ ابو عمر بن دحیہ اور محی الدین ابن عربی وغیرہ سب کا یہی طریقہ تھا یعنی وہ وہ کسی خاص امام کی تقلید نہیں کرتے تھے " یعقوب منصور کے عہد میں ابن رسٹ کی شہرت بام عروج کو پہنچ چکی تھی میندی بالا مناصب کے علاوہ خلیفہ نے اسے اپنا مشیر خاص مقرار کر لیا چنانچہ وہ اکثر فرصت کے اوقات میں اس سے علمی مسائل پر بحث کیا کرتا تھا۔اور اس کی رائے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھاتا تھا۔فقہ واصول فقہ میں ابن رشد نے اللہ کتابیں تصنیف کیں، ان میں سے بدایۃ المجتہد کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی۔یہ کتاب اپنی خصوصیات کے لحاظ سے به این خانکان چیا و ۲ ست ۴۳۴