ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 18 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 18

١٨ وجہ اختلاف اس مسئلہ میں فقہار میں اختلاف کی زیادہ تر وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک جس قدر آیات اور احادیث اس بارہ میں وارد ہوئی ہیں ان سے واضح طور پر شرط ولایت ظاہر نہیں ہوتی۔وہ سن جن سے بعض فقہاء یہ استدلال کرتے ہیں کہ نکاح کے لئے ولایت شرط ہے دوسر فقہار کے نزدیک ایسی تمام سنین محتمل علیہ ہیں۔اسی طرح وہ سنن جن سے بعض فقہار یہ استدلال کرتے ہیں کہ نکاح کے لئے ولایت شرط نہیں ہے دوسرے گروہ کے نزدیک وہ سنن بھی محتمل علیہ ہیں۔اسی طرح وہ احادیث جو اس بارہ میں منقول ہیں ان کے الفاظ اور انکی صحت میں اختلاف ہے۔اب ان دلائل کے متعلق وہ احتمالات بیان کئے جاتے ہیں جو فریقین ایک دوسرے کے خلاف پیش کرتے ہیں۔جو لوگ نکاح کے لئے ولایت کو شرط قرار دیتے ہیں وہ اپنے مسلک کی تائید میں سب سے بڑی دلیل قرآن مجید کی اس آیت سے پیش کرتے ہیں۔وَإِذَا طَلَّقَمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ تَنْكِحُنَ ازْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ له اس آیت میں اولیا، نکاح کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ اگر مطلقہ عورتیں مقرر ہیجاد گزرنے کے بعد اپنے پہلے خاوندوں سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو تم ان کو مت روکو۔اس آیت سے فقہاء کا استدلال یہ ہے کہ اس میں اولیاء کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے مواقع پر مطلقہ عورتوں کو اپنے پہلے خاوندوں سے نکاح کرنے سے مت روکیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء کو ولایت کا حق حاصل ہے۔اگر انہیں ولایت کا حق حاصل ہی نہیں تھا اور مطلقہ عورتیں ولی کی اجازت کے بغیر خود بخود نکاح کر سکتی تھیں تو پھر ان کے اولیاء کو اپنے حق کے ناجائز استعمال سے کیوں روکا گیا۔ے وہ نص جس کے معنی میں اختلاف ہو اور اس سے موافق و مخالف ہر دو مفہوم نکالے جا سکتے ہوں۔لہ ترجمہ : اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پورا کر لیں تو تم انہیں جب کہ وہ نیک طریق پر باہم رضامند ہو جائیں۔اپنے خاوندوں کے ساتھ نکاح کر لینے سے مت روکو۔( البقره ع ٣٠ )