ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xl of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xl

(1) لعان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر مرد عورت پر بد چلنی کا الزام لگائے۔اور عورت انکار کرے تو وہ دونوں قاضی کے رویہ مخصوص الفاظ میں جن کی تصریح آیات قرآنیہ میں ہے قسمیں کھائیں۔اگر قسمیں کھا لیں۔تو ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی۔یہاں تک اللہ میں اتفاق ہے۔لیکن اگر عورت قسم کھانے سے انکار کردے۔تو قسم کھانے سے انکار کرنے کی وجہ سے اسے شرعی حداد گائی جنگی نہیں اس کے تقی ائمہ ثلاثہ یہ کہتے ہیں کہ اس پر حد زنا جاری ہوگی لیکن امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ محضر قسم سے انکار کی وجہ سے حد جاری نہیں ہوسکتی، بلکہ وہ قید کی جائیگی تا وقتیکہ وہ قسم کھانے کے لئے تیار ہو جائے۔علامہ ابن رشد کا فیصلہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کا مسلک صحیح ہے۔کیونکہ محض قسم سے انکار کی بنیاد پر جب فقہا اس کے خلاف مالی ڈگری کو نا پسند کرتے ہیں۔تو محض اس انکار کی وجہ سے اس پر ھد رنا جاری کر کے اس کا خون بہانا کی طرح جائز ہوسکتا ہے کیونکہ جان مال سے زیادہ عزیز او قیمتی ہے۔حد زیاد اس پر کس طرح جاری ہو سکتی ہے۔ابن رشد کہتے ہیں کہ ابو المعالی جوونی جو کہ شافعی میں انہوں نے بھی اس مسئلہ میں کتاب البرھان میں احناف کے دلائل کی قوت کو تسلیم کیا ہے لہ (۲) قرآن مجید میں مطلقہ کی عدت تین قرود بیان کی گئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ قرو سے مراد شہر ہے یا مبیض۔امام مالک اور شافعی بہو کے نزدیک اس سے مراد ظہر ہے یکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک حیض ہر ہر طریق نے اپنی اپنی تائید میں دلائل دیئے ہیں۔آخرمیں علامہ ابن رشد کہتے ہیں کہ مدت کی فرق، اور مقصد کے لحاظ سے امام ابو حنیفہ کا مذہب زیادہ واضح اور درست ہے۔ہے ة بدایۃ المجتہد جلد ۲ ۱۰۰۰ سکه بدایۃ المجتہد جلد ۲ ص۷۹ WA