ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xli
شریعت کا اصل مقصد انسان کے لئے آسانی پیدا کرنا ہے۔نہ کہ شیاری اور تنگی پیدا کرنا علامہ ابن رشد نے اپنے مذہب میں شریعت کے اس مقصد کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔جہاں کسی امام کے مذہب میں شواری کا پہلو غالب دیکھا ہے۔وہاں فوراً یہ اعتراض کر دیا ہے کہ یہ مذاہب شریعیت کی غرض کے خلاف ہے مثلاً :- (1) اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دے۔تو اس کے متعلق جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اسے تین طلاقیں ہی پڑ جائیں گی۔لیکن اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ صرف ایک طلاق پڑے گی۔اس کے متعلق بھی ہر فریق نے اپنے اپنے دلائل دیتے ہیں۔سب سے آخر علامہ ابن رشد اپنا محاکہ میں کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جمہور نے اس مسئلہ میں تشدید کے پہلو کو ملحوظ رکھا ہے میاں محہ شریعت کی اصل غرض رفت اور نرمی کا برم و کرتا ہے جیسا کہ طلاق کا حکم بیان کر کے خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لعل الله يُحدِث بعد ذالك امرا یعنی طلاق کے بعد عدت اس لئے رکھی گئی ہے۔تا کہ اس دوران میں کوئی ایسا امر پیدا ہو جائے جو فریقین کے لئے مفید ثابت ہو۔مثلاً خاوند وجوع کرلے۔لیکن اگر ایسی طلاق کو تمین طلاقیں شمار کر لیا گیا۔تو خاوند رجوع کب کرے گا۔لہذا یہ مذہب شریعت کے مقصود کے بالکل خلاف ہے۔یہ اور اس قسم کی دیگر اور کئی مثالیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علامہ ابن رشد اپنے مذہب میں نرمی کے پہلو کو خاص طور پر ملحوظ رکھتے تھے۔ایسی مثالیں ترجمہ کے اس حصہ میں قارئین کو بے شمار ملیں گی۔ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے۔کہ امام این رشد شریعت کے فلسفہ کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے۔اور جہاں ضرورت پڑتی ہے جھجک بیان کردیتے تھے : بالآخر اللہ تعالے سے دعا ہے کہ وہ ادارہ کی مساعی کو قبول فرمائے۔اور ٣٩