ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xxxiv of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xxxiv

خور تمیں تمہارے لئے حال ہیں لیکن اس اجازت کے باوجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔اس کی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ دو بہنوں کو ایک عقد میں جمع کرنے کی ممانعت کی غرض یہ ملتی۔کہ یہ امر صلہ رحمی اور محبت قرابت کی روح کے خلاف ہے۔یونکہ یہ غرض ایک عورت اور اس کی خالہ یا پھوپھی کو ایک عقد میں جمع کرنے میں بھی موجود ہے۔اس لئے اس پر قیاس کرتے ہوئے آپ نے ایسے اسنوں سے بھی منع فرما دیا۔اور ساتھ ہی اس کی غرض بھی بتادی کہ ناشکمْ إِذَا فَعَلَكُمْ ذيك تَطَعْتُمْ انحا معکم یعنی اگر ایسا کرو گے تو قطع رحمی کا ارتکاب کرو گے جو اللہ تعالے کے منشاء کے قطعا خلاف ہے۔اس فریق نے آپ کے ارشاد کے پیش نظریہ نتیجہ نکالا کہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ ایت کے ظاہر مفہوم کو ہی لیا جائے بلکہ اس حکم کی اصل قرض اور مقصد کو دیکھنا چاہیے اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیئے۔دی) بعض فقہا ایک نفق قرآنی کا یہ مفہوم لیتے ہیں۔کہ اس حکم سے اللہ تعالے کی نشأ سختی کرتا ہے۔تاکہ لوگ اس سے نا جائز فائدہ نہ اٹھائیں لیکن دوسرے فریق کے نزدیک اس حکم سے اللہ تعالے کا منشا نرمی کرنا ہے۔تاکہ لوگوں پر عمل کا دائرہ ناگ نہ ہوجائے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک وقت میں تین طلاقیں دے تو امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک وہ تین ہی شمار ہوں گی۔اور اس کے بعد اور ! اسے رجوع کا حق حاصل نہ ہو گا۔اور اس کی بیوی بائن ہو جائے گی۔لیکن امام ابن رشد اور اہل ظاہر کے نزدیک اسے صرف ایک طلاق ہوگی۔اور ایک طلاق بھی رکھی ہوگی۔یعنی اسے عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہوگا۔امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ ایسی طلاق کو تین طلاقیں قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے شخص پر سختی کی جائے ۳۲