ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xxxv
تا کردہ شریعیت کو کھیل نہ بنالے چنانچہ یہی مسلک حضرت عمر کا تھا۔آپ نے سختی سے یہ حکم دے رکھا تھا۔کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیگا۔تو وہ تین ہی سمجھی جائیں گی بخارات اس کے امام ابن رشد اور اصحاب ظاہر کا استدلال یہ ہے کہ طلاق کے معاملہ میں شریعت کا مقصد سختی کرنا نہیں ہے۔یاکہ طلاق کے " ابغض الحلال" ہونے کی وجہ سے شریت کا منشاء یہ ہے کہ طلاق کا وقوع کم از کم مواقع پر ہو۔اور یہ کم سے کم موٹر ہو تا کہ ایک تعلق جو قائم میچکا ہے۔جہاں تک ممکن ہیں اسے قائم رکھنے کی کوشش کی جائے۔یہی وجہ ہے۔کہ ثریت نے طلاق کے وقوع پر بعض پابندیاں عائد کر دی ہیں مثلاً یہ کہ طلاق ظہر کی حالت میں ہو۔اور وہ طہر بھی ایسا ہو جس میں میاں بیوی نے تعلقات زوجیت قائم نہ کئے ہیں۔پھر جب طلاق واقع ہو گئی تو اس کے بعد تین حیض عدت مقرر کی گئی۔تاکہ وہ اس عرصہ میں رجوع کر سکیں پس ان پابندیوں کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی صورت میں اگر طلاق نافذ ہو تو کم از کم حد ناک ہو۔اور وہ حد ایک طلاق رجعی ہے : (۳) نصوص قرآنی کے بارہ میں اختلاف کی تیسری صورت یہ ہے کہ بعض اوقات نص قرآنی اور حدیث اور قیاس کا بظاہر یا ہم تعارض ہو جاتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر میاں بیوی آگے پیچھے اسلام قبول کریں تو ان کے نکاح کے متعلق اختلاف ہے۔اگر عورت مرد سے قبل اسلام قبول کرے۔تو اس کے متعلق امام مالک ہے۔ابو حنیفہ اور شانی کا مذہب یہ ہے کہ اگر خاوند بیوی کے اسلام قبول کرنے کے بعد حقت کے عرصہ کے اندر اندر اسلام قبول کرلے تو وہ اس عدت کا زیادہ حقدار ہے، اس صورت میں اس کا نکاح قائم رہے گا۔لیکن اگر وہ عدت گزرچکی ہیں۔تو نکاح قائم نہ رہے گا۔بخلاف اس کے اگر خاوند اپنی بیوی سے قبل اسلام قبول کرلے۔تو اس صورت میں امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اس صورت کے سامنے اسلام پیش کیا جائیگا۔اگر وہ مالک اسلام قبول کرنے سے انکار کرے۔تو اس کا نکاح فسخ کیا جائیگا۔لیکن امام شافعی کا نہیں سوسر