ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 283
۲۸۳ وقت مقرر فرمایا ہے۔امام شافعی کے نزدیک طلاق کے بعد حمل سے نفی عدت کے اندر کر سکتا عدت کے بعد اگر نفی کریگیا تو حد لگائی جائے گی۔اور بچے کو اس کی طرف منسوب کیا جائے گا۔با امام مالک کے نزدیک عمل کی طویل ترین مدت تک اپنے نسب سے انکار کر سکتا ہے طویل ترین مدت فقہاء کے نزدیک مختلف ہے۔مشکی بعض کے نزدیک چار سال بعض کے نزدیک پانچ سال وغیرہ۔اہل ظاہر کے نزدیک قلیل ترین مدت حمل تک نسب سے انکار کر سکتا ہے۔اور اُن کے نزدیک قلیل تمرین مدت نو ماہ ہے۔اگر بچہ چھ ماہ یا اس سے زیادہ مدت میں پیدا ہو تو اس کے نسب سے انکار کے متعلق کسی کو اختلاف نہیں ہے۔کیونکہ مجامعت کے بعد چھے ماہ کے اندر بچے کی پیدائش کا امکان ہے۔بعض کے نزدیک یہ چھے ماہ کی مدت مجامعت کے بعد سے نہیں ہے۔بلکہ عقد نکاح کے بعد سے ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر یہ معلوم بھی ہو کہ میاں بیوی نکاح کے بعد اکٹھے نہیں رہے۔مثلاً خاوند مغرب میں رہتا ہے اور بیوی مشرق میں رہتی ہے اور ان دونوں کے درمیان کوئی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔اور نکاح کے چھ ماہ بعد بیوی کو بچہ پیدا ہو تو امام صاحب کے نزدیک وہ بچہ اُس کے خاوند کی طرف منسوب ہو گا سوائے اسکے کہ اس کا خاوند یحان کے ذریعہ اس بچے کی اپنے نسب سے نفی کرے۔اس مسئلہ میں امام صاحب ظاہر شریعت کی طرف گئے ہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ " الولدُ لِلْفِرَاس " چونکہ یہ عورت اس کا فراش ہے۔اس لئے یہ بچہ اس کے خاوند کی طرف منسوب ہوگا۔این رشد اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ استدلال ضعیف ہے۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنار کا الزام لگائے لیکن حمل اپنی طرف منسوب کرنے تو اس بار یہاں