ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 282 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 282

۲۸۲ اسے نفی کا کوئی اختیار نہ ہو گا۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک جب بچہ پیدا ہو جائے اسوقت اس کی نفی کر سکتا ہے۔اس سے قبل نہیں کر سکتا امام مالک اور وہ فقہاء جو اُن کے ساتھ متفق ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ احادیث میں متواتر ایسی روایات موجود ہیں۔مثلاً حضرت ابن عباس - ابن مسعود - اس اور سہل بن محمد سے مروی ہیں کہ جب آنحضرت صلعم نے لعان کرنے والوں کے درمیان یعان کروایا اسوقت آپ نے فرمایا : ان جَاءَتْ بِهِ عَلَى صِفَةِ كَذَا فَمَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا۔آپ کے ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ نفی ولد اور بعان وضع حمل سے قبل ہی ہونا چاہیے۔امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ حمل کبھی ضائع ہو جاتا ہے اس لئے وضع حمل کے بعد یقینی بنیاد پر بعان ہونا چاہیئے۔جمہور کی دلیل یہ ہے کہ حمل کے ظاہر ہونے کے ساتھ بہت سے احکام متعلق ہیں۔مثلاً نفقہ - عقدت وغیرہ اس لئے قیاس یہ کہتا ہے کہ بعان بھی ظہور حمل کے بعد ہی ہو۔امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ولادت کے بعد لعان جائز ہے خواہ طلائین حمل کی نفی کرے یا نہ کرے۔امام ابوحنیفہ نے وضع حمل کے بعد لعان کے لئے کوئی وقت معین نہیں کیا۔لیکن آپ کے صاحبین امام ابو یوسف اور امام محمد نے وضع حمل کے بعد چالیس دن تک ے امام ابوحنیفہ کا مسلک زیادہ درست اور محتاط معلوم ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ عورت کسی بیماری کی وجہ سے حاملہ معلوم ہوتی ہے لیکن در حقیقت اسے حمل نہیں ہوتا۔