ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 260 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 260

F4- مطلب یہ ہے کہ امساک کی اصل غرض مجامعت ہے۔گویا انہوں نے ایک چیز کے لازم معنی کو اصل چیز کے قائمقام قرار دیا ہے یعنی امساک کو مجامعت کے قائمقام قرار دیا ہے لہذا انہوں نے ان دونوں کا حکم بھی ایک ہی قرار دیا ہے۔اسی طرح امام شافعی نے ایک استدلال یہ کیا ہے کہ امساک کا ارادہ و جوری کفارہ کا سبب ہے گویا ارتفاع امساک سے ارتفاع کفارہ لازم آیا یعنی جب امساک نہ رہا تو کفارہ بھی نہ رہا۔کیونکہ امساک نہ رہنے کا مطلب ظہار کے بعد طلاقی ہے جب طلاق ہو گئی تو کفارہ کا کیا مطلب ہوا۔یہی وجہ ہے کہ امام مالک کی دوسری روایت میں مزید احتیاط سے کام لیا گیا ہے اس روایت کے مطابق انہوں نے تجوید کے معنی ارادہ امساک اور ارادہ مجامعت دونوں لئے ہیں۔ابن رشد کے نزدیک عود بھیجنے مجامعت ضعیف ہے۔اور نص صریح کے خلاف ہے۔جن لوگوں نے اظہار کو قسم کے مشابہ قرار دیا ہے یعنی میں طرح کسم کا کفارہ قسم توڑنے کے بعد واجب ہوتا ہے اسی طرح ظہار کا کفارہ مجامعت کے بعد واجب ہونا چاہیے۔یہ قیاس درست نہیں ہے کیونکہ یہ نص صریح کے خلاف ہے۔چنانچہ نص صریح ہیں یہ حکم ہے کہ ظہار کرنے والا کفارہ ادا کرنے سے پہلے مجامعت نہیں کر سکتا اس لئے عود کے معنے نفس مجامعت کے لینا صحیح نہیں ہے۔اس باب میں بعض فروع میں فقہا ر نے اختلاف کیا ہے۔مثلاً یہ کہ ظہار کے بعد خود کے عزم سے قبل ظہار کرنے والا اپنی بیوی کو طلاق دیدے یا اس کی بیوی مر جائے تو کیا خاوند کو کفارہ ادا کرنا ہوگا یا نہیں ؟ جمہور فقہار کا مذہب یہ ہے کہ ایسی صورت میں اس پر کفارہ لازم نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ عود کے ارادہ کے بعد اسے طلاق دیدے۔یا ایک طویل عرصہ تک امساک کے بعد اسے طلاق دیدے تو اس صورت میں اسے کفارہ ادا کرنا ہوگا۔