ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 261
۲۶۱ عثمان متی کا مذہب یہ ہے کہ جب ظہار کے معا بعد طلاق دیدے تو ایسی صورت میں طلاق کے بعد اسے کفارہ ادا کرنا ہوگا۔اور اگر اس کی بیوی عود کے ارادہ سے قبل مرجائے تو وہ اس کا اس وقت تک وارث نہ ہو گا جب تک کفارہ ظہا را دا تذکرے گا۔این رشد کا خیال یہ ہے کہ یہ مذہب نص صریح کے خلاف ہے کیونکہ کفارہ تو خود کے بعد واجب ہوتا ہے اور اس شخص نے تو ظہار کے معا بعد طلاق دیدی ہے اور خود نہیں کیا۔لہذا یہ مذہب نص صریح کے خلاف ہے۔ظہار کس عورت سے ہو سکتا ہے اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ اپنی منکوجہ بیوی سے تمہار ہو سکتا ہے لیکن لونڈی اور اجنبی عورت سے ظہار کے وقوع کے متعلقی اختلاف ہے اسی طرح اگر بیوی خاوند سے ظہار کرے تو کیا یہ بھی صحیح ہے یا نہیں ہے۔اس بارہ میں بھی اختلاف ہے۔لونڈی سے ظہار کے متعلق امام مالک۔ثوری اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس کا ظہار نبی وہی حکم رکھتا ہے جو آزاد بیوی کا ہے۔اسی طرح مد تبرہ اور ام ولد کا حکم بھی وہی ہے جو آزاد بیوی کا ہے۔امام شافتی ابو حنیفہ - احمد۔اور ابو ثور کا مذہب یہ ہے کہ لونڈی سے ظہار صحیح نہیں ہوتا۔اوزاعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر لونڈی سے مجامعت کرتا ہے تو اس سے ظہار ہو سکتا ہے۔اور اگر مجامعت نہیں کرتا تو یہ قسم ہے اور اس سے کفارہ قسم لازم آتا ہے۔عطاء کا مذہب یہ ہے کہ اس کا ظہار صحیح ہوگا لیکن اس کا کفارہ آزاد بیوی کے کفارہ سے نصف ہوگا۔