ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 254 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 254

< ۲۵۴ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةَ غَيْرَهَا وَضَرَبْتُ صَفْحَةٌ رَقَبَنِي قَالَ فَهُمْ شَهْرَيْنِ مُتَنَا بِعَيْنِ قَالَ وَهَلْ أَصَعْتُ الَّذِي أَصَبْتُ إِلا مِنَ الصيَامِ قَالَ فَاطْعِمُ وَ سَقَا مِنْ تَمْرِبَيْنَ سِتِّينَ مِسْكِينَا قَالَ وَالَّذِي بَعَمَّكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا وَحْشِيَّيْنِ مَا لَنَا طَعَامُ قَالَ فَانْطَلِقَ إلى صاحِب صَدَقَةٍ بَنِي رُرَيْنِ فَلْيَدَ فَصَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِيْنَا وَسَقَا مِّنْ تَمَرٍ وَكُلْ اَنْتَ وَعَيَالُكَ بَقِيَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلى قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِندَكُمُ الصِّيقَ وَسُوْء الراي وَوَجَدتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْي وَقَدْ أمَرَنِي بَصَدَقَتِكُمْ دابو داؤد باب الظہار ) رمضان کے اختتام تک ظہار کیا۔ایک ران جبکہ وہ میری خدمت کر رہی تھی تو اس کے جسم کا کوئی حصہ بنگا ہو گیا جس سے میں بے اختیار ہو گیا اور اس کے ساتھ مجامعت کی۔جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور انہیں یہ واقعہ بتایا اور انہیں کہا کہ میرے ہمراہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔انہوں نے میرے ساتھ جانے سے انکار کیا۔چنانچہ میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔اور اپنا واقعہ بیان کیا۔آپنے دو دفعہ فرمایا کہ اے سلمہ تو نے ایسا کام کیا ہے کہ سلمہ بن صحر نے دو وقعہ ا جواب دیا۔ہاں یا رسول اللہ مجھے سے ایسا فصل سرزد ہوا ہے اور میں اللہ تعالٰی کے حکم کو برداشتہ ہی نے کے لئے تیار ہوں ہیں تو کچھ الٹ تھانے ارشاد سے متعلق ہو آپ مجھے اس کا حکم دیں۔آپ نے فرمایا کہ ایک نظام آزاد کر و یسلمته بن صخر فرماتے ہیں کہ یکھنے جواب دیا کہ مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی گردن کے سوار اور کسی کا مالک نہیں ہوں۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنی گردن پر ہاتھ مارا اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کہ پھر تم دوماہ کے متواتر روزے رکھو تو سلمہ نے جواب دیا کہ مجھے موصیبت لاحق ہوتی ہے اس کا باعث بھی تو روزے ہی تھے۔آپنے فرمایا کہ پھر ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں میں قسم کو وسیلہ نے جواب دیا کہ مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے آج رات بغیر کھانے کے گزاری ہے۔آپ نے فرمایا کہ پھر تم اس شخص کے پاس جاؤ جس کے پاس بنی زریق کے صدقات جمع ہوتے ہیں تاکہ وہ تمہیں اس میں کچھ دے۔اس میں سے تم ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور باقی اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر خریچ کر و سلمہ بن صخر فرماتے ہیں کہ میں اپنی قوم کی طرف گیا اور ان کو کہا کہ سینے تمہارے پاس سے تنگی اور ناپسندید و رائے حاصل کی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ینے فراخی اور کدہ رائے حاصل کی۔آپنے مجھے تم سے صدقہ لینے کا ارشاد فرمایا ہے۔(ابو داؤد باب فی انتظار ) نوٹ : ایک وسق پانچ مین اور اڑھائی سیر کے برابر ہے۔