ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 253
۲۵۳ (۴) مسلمہ بن صخر کی روایت : ۲۵۲ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَغِي قَالَ كُنتُ امْرَأَ أَصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَالَا يُصِيبُ غَيْرِى فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أَصِيبَ مِن امْرَأَتِي شَيْئًا يُنَابِعُ لِى حَتَّى أَصْبَحَ فَظَاهَرْتُ مِنْهَا حَتَّى يَنْسَلِعْ شهرُ رَمَضَانَ فَبَيْنَهَا هِيَ تَحْدِمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكشَفَ لِي مِنْهَا شَيْءٍ فَلَمُ البِتْ اَنْ نَزَوَتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قوْمِي فَاخَبَرْتُهُمُ الخَبَرَ وَقُلْتُ امْشُوا مَعِي إِلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَا وَاللهِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْبَرْتُهُ فَقَالَ اَنْتَ بِذَكَ يَا سَلَمَهُ قُلْتُ آنا بلكَ يَا رَسُولَ اللهِ مَرَّتَيْنِ وَأَنَا صَابِرُ لِأَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْكُمْ مَا أَرَاكَ اللهُ قَالَ حَرَّرْ رَقَبَةً قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپکے پاس اس امر کی شکایت کی۔آپ فرماتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ علیہ وسلم مجھے میرے خاوند کے متعلق سمجھاتے رہے چنانچہ آپ نے مجھے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرد تمہارا خاوند تمہارے چچا کا بیٹا ہے (اس کے خلاف شکایت نہ کرو ) چنانچہ آپ فرماتی ہیں کہ میں وہاں سے نہ نکلی یہاں تک کہ قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں کہ داے رسول ، اللہ تعالٰی نے اس عورت کی دعا کوشن آیا ہے جو اپنے خاوند کے متعلق تجھے سے بحث کرتی تھی اور اللہ تعالٰی سے فریاد کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی بحث سن رہا تھا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمہ کو فرمایا کہ اپنے خاوند کو کہو کہ ایک غلام آزاد کرے۔حضرت خولہ نے جواب دیا کہ وہ اسکی توفیق نہیں رکھتا۔آپنے فرمایا پھر اسے کہو کہ دوماہ کے متواتر روزے رکھے۔حضرت خوا نے جواب دیا یا رسول اللہ وہ تو بوڑھا آدمی ہے روزے رکھنے کی بھی اسے طاقت نہیں ہے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ اسے کہو کہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔حضرت خولہ نے جواب دیا کہ اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو صدقہ میں دے سکے۔آپنے فرمایا کہ میں اسے امداد کے طور پر ایک ٹھو کر کھجور کا ابھی دونگا۔حضرت خولہ نے فرمایا کہ میں بھی ایک ٹوکرہ کھجور کا دونگی۔آپنے فرمایا تم نے اچھا کام کیا ہے ہیں اب جا کر اپنے خاوند کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔(ابو داؤد باب فی الظہار) ترجمہ : سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں کہ ازدواجی تعلقات کے لحاظ سے میں دوسروں کی نسبت بیوی کی طرف زیادہ رغبت رکھتا تھا۔چنانچہ جب رمضان کا مہینہ آیا تو مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ مبادا مجھے اپنی بیوی سے کوئی ایسا امر لاحق ہو جس سے میرے لئے مشکل پیدا ہو جائے۔چنانچہ جب دن چڑھا تو پیلے اپنی ہو گی