ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 242 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 242

۲۴۲ طلاق واقع ہو جائے گی یہی مذہب ابن مسعود اور تابعین کی ایک جماعت کا ہے وجہ اختلاف | اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ آیت قرآنی : فَإِن فَارُو فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ میں فاؤڈ کا حکم چار ماہ گزرنے سے قبل عرصہ سے تعلق رکھتا ہے یا اس کے بعد سے۔جی کے نزدیک اس حکم کے ماتحت رجوع کی گنجائش صرف چار ماہ سے پہلے پہلے ہے۔ان کے نزدیک اگر وہ چار ماہ سے قبل رجوع نہ کرے گا تو اس کے بعد اسے خود بخود طلاق ہو جائے گی۔ان فقہاء نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيدُ عَلِيمٌ میں الفاظ عَزَمُوا الطَّلَاقَ کا یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ وہ اس عرصہ کے گذرنے کے بعد اسے لفظاً طلاق دے الفاظ سَمِيعٌ عَلِيم سے ہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ سمع کا تعلق تلفظ سے ہے اس لئے طلاق باللفظ ضروری ہے۔امام مالک نے اپنی تائید میں اس آیت سے چار دلائل پیش کئے ہیں :- اول : اللہ تعالٰی نے تربص " یعنی توقف کا حق مرد کو دیا ہے۔پس یہ حق اسی طرح کا ہے جس طرح میعادی قرضوں میں قرضہ ادا کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے میں اس مدت تک مرد کو توقف کا اختیار ہے اس کے بعد چاہے تو طلاق دے اور چاہے تو رجوع کرے۔دوم: اللہ تعالیٰ نے فعل طلاق کی اضافت مرد کی طرف کی ہے یعنی مرد اگر ترجمہ :۔پھر اگر اس عرصہ میں صلح کے خیال کی طرف لوٹ آئیں تو اللہ تعالے یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔(بقرہ ) کے ترجمہ :۔اور اگر وہ طلاق کا فیصلہ کر لیں تو اللہ تعالیٰ بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔(بقره )