ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 234
۲۳۴ اسی طرح اللہ تعالی فرماتا ہے: وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُم لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس کا ہر مقرر ہوا اور مجامعت سے قبل طلاق ہو گئی ہو۔اس کے لئے متحد نہیں ہے۔امام شافعی " متعہ کے حکم کو عام قرار دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ومتعُوهُنَّ عَلَى المُوسِع قَدَرُهُ وَ عَلَى المُقْتِرِ قَدَ رُع له یہ حکم عام ہے اور اس میں سے تخصیص صرف اس کی کی گئی ہے جس کا مہر مقرر ہو اور اسے مجامعت سے قبل طلاق دی گئی ہو جیسا کہ اوپر کی آیت میں بیان ہو چکا ہے یعنی اس کو صرف نصف مہر لے گا۔اور باقی سب مطلقات کے لئے متحد لازم ہے۔جمہور کے نزدیک مختلفہ کے لئے متحد نہیں ہے کیونکہ وہ تو اپنے پاس سے کچھ رقم ادا کر کے ضلع حاصل کرتی ہے۔لیکن اہل ظاہر کے نزدیک وہ بھی ایک حکم کے ماتحت معاوضہ دیگی اور دوسرے حکم کے ماتحت متعہ لے گی۔امام مالک نے متعہ کو مستحسن اس لئے قرار دیا ہے کہ متعہ کے متعلق حکم دینے کے بعد آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ یعنی جو اس کے متحمل ہو سیکس اور اپنے پاس سے کچھ استحسان کے طور پر له ترجمہ : اور اگر تم نہیں تخیل اس کے کہ تم نے انہیں چھوا ہو لیکن ہر مقرر کر دیا ہو طلاق دے دو تو اس صورت میں جو مہر تم نے مقرر کیا ہو اس کا آدھا ان کے سپرد کرنا ہوگا دبقرہ عام ترجمہ : اور چاہیئے کہ تم ان کو مناسب طور پر سامان دے دو یہ امر دولتمند پر اس کی طاقت س کے مطابق لازم ہے اور نادار پر اس کی طاقت کے مطابق (بقرہ ہے) سے ترجمہ : ہم نے ایسا کرنا نیک لوگوں پر واجب کیا ہے دیقرہ )