ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 233
۲۳۳ دوسرا باب متحد دریعنی مطلقہ کو احسان کے طور پر کچھ دینا ) جمہور کا مذہب یہ ہے کہ متحد ہر مطلقہ عورت کے لئے واجب نہیں ہے۔لیکن اہل ظاہر میں سے ایک گروہ کے نزدیک یہ ہر مطلقہ کے لئے واجب ہے اور ایک گروہ کے نزدیک یہ پسندیدہ ہے واجب نہیں ہے۔اور یہی مذہب امام مالک کا ہے۔وہ فضاء جن کے نزدیک بعض مطلقات کے لئے متعہ واجب ہے ان میں سے امام ابو حنیفہ کے نزدیک متعہ اس مطلقہ کے لئے واجب ہے جس کو مجامعت سے قبل طلاق دی گئی ہو اور اس کا کوئی معین مہر مقرر نہ کیا گیا ہو۔امام شافعی کے نزدیک منعہ ہر اس مطلقہ کے لئے واجب ہے، جس کو خاوند نے خود ہیوی کے مطالبہ کے بغیر طلاق دی ہو اور اس کا مہر بھی مقرر نہ ہو اور اسی سے مجامعت بھی نہ ہوئی ہو۔امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَكَعْتُمُ الْمُؤْمِتِ تو طاقتين مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتَّعُوهُنَّ وَسَيّ حُوهُنَّ سَرَاحَا جَمِيلاه اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ میں عورت کا ہر مقرر نہ ہوا اور مجامعت سے قبل طلاق ہو گئی ہو اسی کے لئے متعہ ہے۔ا ترجمہ : اے مومنو جب تم مومن عورتوں سے شادی کرو اور پھر ان کو ان کے چھونے سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کوئی حق نہیں کہ ان سے عادت کا مطالبہ کرو۔چاہیے کہ ان کو کچھ دنیوی نفع پہنچاؤ و اور ان کو عمدگی سے رخصت کرو۔(احزاب غ)