ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 227
۲۲۷ له بعض روایات میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- إِنَّمَا السُّكْنى وَالتَّفَقَةُ لِمَن يُزَوجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ یہی قول حضرت علی ابن عباس اور جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے:۔وہ لوگ جو نفقہ نہیں دلاتے لیکن رہائش کی ذمہ واری خاوند کے ذمہ عائد کرتے ہیں وہ فاطمہ کی مندرجہ بالا روایت سے جو موطاء امام مالک میں الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ مروی ہے استدلال کرتے ہیں۔قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ وَأَمَرَهَا أَن تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ ابْنِ أَةِ مَكْتُومِ اس روایت میں سکنی کو ساقط نہیں کیا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ سکنی کا حکم اللہ تعالیٰ کے عمومی ارشاد کے ماتحت قائم ہے یعنی :- اسْكِنُوهُنَّ مِن حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وَجْدِكُمْ یہ سوال کہ آپ نے اسے رہائش کے اخراجات دلائے تھے تو پھر اسے ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کو کیوں کہا گیا۔تو اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ وہ بڑی زبان دراز تھی اس لئے اُسے خاوند کے گھر رہ کر عدت گزارنے سے باز رکھا۔وہ فقہاء جن کے نزدیک سکتی اور نفقہ دونوں لازم ہیں ان کے نزدیک سکتی تو اللہ تعالے کے مندرجہ بالا ارشاد سے ثابت ہے۔نفقہ کے واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نفقہ سکنی کا تالی ہے میں جب رحمیہ اور حاملہ کے لئے خاوند کے گھر رہنا لازم قرار دیا گیا تو ساتھ ہی اسے ے ترجمہ آپ نے فرمایا کہ رہائش کے اخراجات اور نان و نفقہ اس عورت کے لئے ہے جس کے خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہو۔ترجمہ :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے تمہارے خاوند کے ذمہ کوئی نفقہ نہیں ہے۔نیز آپ نے فاطمہ کے متعلق حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم کے گھر کھا کر عدت گزار ہے۔(موطاء امام مالک و مسلم باب المطلقة ثلاثا لا تفقد لها )