ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 225 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 225

۲۲۵ عدت کے دن گزارے گی یا پہلی گزاری ہوئی عدت بھی دوسری عدت میں شمار ہوگی ؟ جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ وہ دوبارہ پوری عدت گزارے۔امام شافعی کا ایک قول یہ ہے کہ وہ پہلی عدت کے ایام کو دوسری عدت میں شمار کرے۔جمہور اور امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ ہر رجوع گذری ہوئی عدت کو کالعدم کر دیتا ہے۔خواہ تعلقات زوجیت قائم ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں۔ابن رشد کے نزدیک امام شافعی کا قول زیادہ واضح اور قابل قبول ہے۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مالی تنگی سے مجبور ہو کر طلاق دے تو امام مالک کے نزدیک اس کا رجوع اس صورت میں قابل قبول ہو گا جب وہ اسے نفقہ دے اگر وہ اسے نفقہ نہ دے گا تو رجوع صحیح نہ ہوگا اور وہ پہلی عدت کے مطابق یقیہ ایام عدت کو ختم کرے گی۔اگر لونڈی عدت کے اندر آزاد ہو جائے تو وہ اس کے بعد لونڈی کی عدت پوری کرے گی یا آنرا دعورت کی ؟ امام مالک کے نزدیک لونڈی کی عدت پوری کرے یعنی دو حیض یا دو ماہ - امام ابو حنیفہ کے نزدیک رجعی طلاق میں اس کی عدت آزاد عورت کی عدت میں تبدیل ہو جائے گی۔لیکن بائن طلاق میں لونڈی کی عدت ہی گزار گی۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک طلاق رجعی کی صورت میں آزاد عورت کی عدت گزارنے کی وجہ یہ ہے کہ رجعی طلاق میں عورت اپنی عدت میں پہلے خاوند کے ساتھ متعلق رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اس کی وارث ہوتی ہے لہذا اسی صورت میں بھی آزاد ہو جانے کی وجہ سے آزاد عورت کی عدت گزارے گی۔عدت کے احکام تمام فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ رجعی طلاق کی صورت میں رہائش اور خوراک کے اخراجات عدت کے ایام میں خاوند کے ذمہ ہیں