ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 224
۲۲۴ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَأَوْلاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ له لونڈیوں کی بھی وہی اقسام ہیں جو آزاد عورتوں کی بیان کی جاچکی ہیں۔لونڈیوں کی اقسام اور ان کا حکم درج ذیل کیا جاتا ہے۔حیض والی لونڈی کے متعلق داؤد اور اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ اسکی عدت بھی آزاد عورت کی طرح تین حیض ہے۔اور یہی مذہب ابن سیرین کا ہے۔اہل ظاہر اللہ تعالیٰ کے اس عمومی ارشاد کی طرف گئے ہیں : وَالمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ تُرُوءَ له چونکہ لونڈی پر بھی مطلقہ" کا اطلاق ہوتا ہے تو وہ بھی اس حکم میں شامل ہونی چاہیئے۔جمہور کے مذہب کے مطابق اس عمومی حکم کو ایک قیاس کی بنا پر مخصوص کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ لونڈی طلاق اور عدت کے معاملہ میں حدہ کے مشابہ ہے۔جس طرح لونڈی کی حد آزاد کی حد سے نصف ہوتی ہے اسی طرح اس کی عدت بھی آزاد عورت سے نصف ہوگی چونکہ تین حیض کا نصف نہیں ہوتا اس لئے اس کی عدت ڈیڑھ کی بجائے دو حیض رکھے گئے ہیں۔وہ لونڈی جو حیض سے مایوس ہو یا صغیرہ ہو تو امام مالک اور اکثر اہل مدینہ کے نزدیک اس کی عدت تین مہینے ہوگی۔لیکن امام شافعی - ابو حنیفہ - نوری اور ابو ثور کے نزدیک اس کی عدت ڈیڑھ ماہ ہے کیونکہ حیض کا نصف نہیں ہو سکتا لیکن مہینے کا نصف ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص رجعی طلاق میں عدت کے اندر رجوع کرلے اور پھر مجامعت کرنے کے بغیر اسے دوبارہ طلاق دیدے تو کیا وہ عورت دوبارہ شروع سے اہ ترجمہ : اور جن عورتوں کو حمل ہو ان کی عدت وضع حمل تک ہے۔(طلاق لح) ترجمہ : اور جن عورتوں کو طلاق مل جائے وہ تین بار حیض آنے تک اپنے آپ رو کے رکھیں۔(بقره ع ۲۸)