ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 191
191 دوسرا باب کس کی طلاق جائز ہے اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ خاوند جو عاقل بالغ اور آزاد ہو اور اسے طلاق دینے پر مجبور نہ کیا گیا ہو اس کی طلاق صحیح ہے لیکن جس کو مجبور کیا گیا ہو یا وہ بیہوش ہو یا بیمار ہو یا بلوغت کے قریب ہو اس کی طلاق کے متعلق اختلاف ہے۔ایسے مریض کی طلاق کے متعلق جو مرض سے صحتیاب ہونے کے بعد طلاق کے قول پر قائم ہو اس کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ وہ نافذ ہو جائے گی۔لیکن اگر مریض طلاق دینے کے بعد مر جائے تو اس کی مطلقہ بیوی اس کی طلاق مكرة وارث ہوگی یا نہیں ؟ اس بارہ میں اختلاف ہے۔کا ہے وہ شخص جس کو مجبور کر کے طلاق دلائی گئی ہو اس کے متعلق امام مالک شافعی احمد۔داؤد ظاہری اور عبداللہ بن عمر: این زبیر عمر بن الخطاب - علی بن ابی طالب اور ابن عباس کا مذہب یہ ہے کہ اس کی طلاق نافذ نہ ہوگی۔لے مکرہ سے مراد وہ شخص ہے جس کو طلاق دینے پر مجبور کیا گیا ہو۔طلاق مکرہ کا مسئلہ ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے اور اس کی ابتدا ر امام مالک کے زمانہ سے ہوئی ہے خلفاء بنو عباسیہ نے جب یہ محسوس کیا کہ لوگ ان کی سبجیت دل سے نہیں کرتے بلکہ نمائش کے طور پر یا حکومت کے خوف سے کرتے ہیں تو انہوں نے بیعت میں یہ الفاظ رکھ دئے کہ اگر میں یہ بیعت دل سے نہیں کرتا تو میری بیوی کو طلاق چنانچہ حضرت امام مالک سے اس بارہ میں فستوئی دریافت کیا گیا کہ ایسی طلاق میں میں جبر کا دخل ہو واقع ہو جاتی ہے یا نہیں تو اس پر حضرت امام مالک نے یہ فتوی دیا کہ طلائی المَكْرَة کھیں پشنی ہے کہ جہری طلاق کالعدم ہے۔چنانچہ والی مدینہ جعفر بن سلیمان عباسی جو خلیفہ منصور وبقي