ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 189
Inq امام مالک کے نزدیک اگر خاوند اپنی بیوی کو یہ کہے کہ تیرے ہاتھ یا پاؤں یا بالوں کو طلاق۔تو اسے طلاق واقع ہو جائے گی۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک ان الفاظ سے اسے طلاق واقع نہ ہوگی سوائے اس کے کہ وہ ایسے عضو کا نام لے جو سارے جسم کا قائمقام سمجھا جاتا ہے۔مثلاً وہ یہ کہے کہ تمہارے سر کو طلاق یا تمہارے دل کو طلاق یا تمہاری شرمگاہ کو طلاق - امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر ان اعضاء کے ایک حصے کو طلاق دے۔تب بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔مثلاً یہ کہے کہ تمہارے نصف سر کو طلاق یا ربج دل کو طلاق یا ثلث شرمگاہ کو طلاق وغیرہ۔داؤد ظاہری کے نزدیک اگر ان اعضاء کے ایک حصے کو طلاق دے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو جس کے ساتھ تعلقات زوجیت قائم نہ ہوئے ہوں تین وقعہ یہ کہے کہ تمہیں طلاق۔تمہیں طلاق تمہیں طلاق۔تو امام مالک کے نزدیک اسے تین طلاق واقع ہونگی لیکن امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔کیونکہ ان کے نزدیک ایک طلاق سے وہ بائنہ ہو جائیگی اور باقی دو لغو ہونگی کیونکہ اصل مقصود تو ایک طلاق سے حاصل ہو گیا۔اگر طلاق میں عدد کا استثنار ہو تو اس کی تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں۔(۱) استثناء اسی عدد کا ہو جس کی طلاق دی گئی ہے۔مثلاً یہ کہے کہ تمہیں تین طلاق سوائے تین طلاق کے۔(۲) استثناء طلاق کے عدد سے کم ہو۔مثلاً یہ کہے کہ تمہیں تین طلاق سوائے دو طلاق کے۔یا سوائے ایک طلاق کے۔(۳) استثناء طلاق کے عدد سے زیادہ کا ہو۔مثلاً یہ کہے کہ تمہیں ایک طلاق سوائے تین طلاق کے وغیرہ۔