ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 169 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 169

149 " بعض فقہار کا خیال یہ ہے کہ اختیار طلاق اور تملیک طلاق“ اور اس قسم کے دوسرے اختیارات کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ شریعت نے جو اختیارات مرد کے سپرد کئے ہیں وہ اختیارات عورت کی طرف منتقل نہیں ہو سکتے یہ قول ابو محمد بن حزم ظاہری کا ہے۔امام مالک - امام شافعی امام ابو حنیفہ اوزاعی اور فقہاء کی ایک جماعت کے نزدیک تملیک طلاق کی صورت میں عورت کو اپنے اوپر طلاق وارد کرنے یا خاوند کے عقد میں رہنے کا فیصلہ کرنے کا اختیار اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہ دونوں اس مجلس میں بیٹھے ہیں جس میں اس کو اختیار دیا گیا ہے جب وہ مجلس ختم ہو جائے تو اس کا اختیار بھی ختم ہو جاتا ہے۔ور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ " تملیک طلاق“ اور ” توکیل طلاق " دونوں کا حکم برابر ہے۔یعنی خاوند جب چاہے اس اختیار کو واپس لے سکتا ہے مجلس مذاکرہ کے اندر بھی اور بعد میں بھی تا وقتیکہ اس کی بیوی اس اختیار کو استعمال کرلے یعنی طلاق اپنے اوپر وارد کرے۔Whi اس پر میری بیوی نے کہا کہ تمہیں تین طلاقیں ہیں۔اس کے جواب میں حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ تمہاری بیوی کو ایک طلاق ہے اور جب تک وہ عدت میں ہے تمہیں رجوع کا حق حاصل ہے۔حضرت ابن مسعود نے یہ بھی فرمایا کہ میں عنقریب حضرت عمرانہ سے بھی ملونگا۔دیعنی ان سے اس بارہ میں دریافت کروں گا) چنا نچہ وہ حضرت عمرؓ کو ہے اور ان کو یہ سارا قصہ سنایا حضرت عمرو نے فرمایا کہ اللہ تعالے نے ایک اختیار مردوں کو دیا ہے اور وہ یہ اختیار عورتوں کے سپرد کرتے لگے ہیں دیعنی آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ، حضرت عمرہ نے اس عورت کے متعلق ناراضگی کا اظہار فرماتے ہوئے حضرت ابن مسعود سے دریافت فرمایا کہ آپ کا اس کے متعلق کیا مستوی ہے۔حضرت ابن مسعود نے جواب دیا کہ میرے خیال میں اسے ایک طلاق ہے اور اس کے خاوند کو عدت کے اندر رجوع کا حق ہے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ میرا خیال بھی یہی ہے۔اور اگر آپکا خیال اس کے برعکس ہوتا تو میں یہ سمجھتا کہ آپ کی رائے اس بارہ درست نہیں ہے۔