ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 165 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 165

140 کے نزدیک اگر بیوی کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو خاوند کا قول معتبر ہوگا۔امام شافعی کے نزدیک دونوں سے حلف لیا جائے گا۔اور عورت پر مہر مثل کی ادائیگی واجب ہوگی۔امام شافعی نے اس اختلاف کو بائع او مشتری کے اختلاف سے تشبیہ دی ہے۔امام مالک کے نزدیک اس بارہ میں بصورت مدنی علیہا ہے اور مرو مدعی۔اس لئے مرد کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو عورت کا قول حلف کے ساتھ معتبر ہوگا۔چوتھا باب طلاق اور فسخ نکاح میں فرق طلاق اور فسخ نکاح میں فرق امام مالک نے اس فرق کو اس طرح بیان کیا ہے۔کہ اگر میاں بیوی کی جدائی کسی ایسی وجہ سے واقعہ ہوئی ہو کہ اس وجہ کی موجودگی میں اگر وہ دونوں سے چاہیں کہ ان کا عقیدہ نکاح قائم رہے تو شرعاً ان کو اس کا اختیار نہ ہو۔مثلا ان دونوں کے درمیان رضاعی رشتہ ثابت ہو جائے یا معلوم ہو جائے کہ ان کا نکاح عدت ختم ہونے سے قبل ہوا تھا۔تو اس صورت میں اگر وہ یہ چاہیں بھی کہ ان کا عقد نکاح قائم رہے تو وہ شرعاً اس امر کے مجازہ نہیں ہیں۔بلکہ لاز گا ان کے درمیان تفریق واقع ہو جائے گی۔یہ تفریق فسخ نکاح کہلائے گی۔لیکن اگر تفریق کسی ایسی وجہ سے ہوئی ہو کہ اس وجہ کی موجودگی میں اگر وہ دونوں اپنے عقد کو قائم رکھنا چاہیں تو شرعا وہ اس کو قائم رکھ سکتے ہیں۔مثلاً اگر خاوند یا بیوی میں کوئی عیب ثابت ہو جائے تو اس عیب کی موجودگی میں اگر وہ دونوں اپنے عقد نکاح کو قائم رکھنا چاہیں تو شرعا ان کو اسکی اجازت ہے پس اگر اس وجہ سے ان کے درمیان تفریق ہوئی تو یہ طلاق کہلائے گی۔امام مالک نے طلاق اور فسخ نکاح کو اوپر کی دو مثالوں سے واضح کیا ہے۔