ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 166
K 194 پانچواں باب بیوی کو طلاق کا اختیار دینا طلاق کے مسئلہ میں بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کے متعلق چند خاص امور بان کئے گئے ہیں تو یہ ہیں:۔بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کے لئے عام طور پر دو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔" اختیار طلاق" "مملیک طلاق" فقہا ر نے ان دونوں لفظوں کے الگ الگ احکام بیان کئے ہیں۔امام مالک کے نزدیک تملیک طلاق کا مطلب یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کو اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا مالک بنا دیا۔یہ طلاق ایک بھی ہو سکتی ہے اور ایک سے زیادہ بھی۔یہی وجہ ہے کہ اگر بیوی اپنے اوپر ایک سے زیادہ طلاقیں واقع کرلے تو امام مالک کے نزدیک خاوند کو اس امر کا اختیار ہے کہ وہ ایک کے علاوہ باقی طلاقوں کا اختیار دینے سے انکار کر دے۔امام مالک کے نزدیک اختیار طلاق اگر مطلق اور غیر مقید ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی خواہ اپنے خاوند کو اختیار کرے یعنی اس کے ساتھ رہنا پسند کرے یا اس سے تین طلاقوں کے ساتھ بائن ہو جائے۔اور اگر وہ ایک طلاق کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا چاہے تو وہ ایسا نہیں کر سکتی۔" تملیک طلاق کی صورت میں امام مالک کی ایک روایت کے مطابق اگر بیوی اپنے اوپر طلاق وارد نہ کرے تو اس کا اختیار باطل نہیں ہوتا۔سوائے اس کی کہ اس پر ایک عرصہ گذر جائے اور وہ اس اختیار کو استعمال نہ کرے۔امام مالک کی دوسری روایت کے مطابق اس سے اختیار طلاق باطل نہیں ہوتا تا وقتیکہ وہ خود اس اختیار کو رد نہ کر دے یا اپنے اوپر طلاق وارد نہ کرلے۔