ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 144
۱۴۴ بخلاف اس کے غلام کی طلاق میں تعداد کی کمی سے اس پر تخفیف نہیں کی گئی بلکہ تشدید کی گئی ہے یعنی جہاں اسے تین طلاقوں تک رجوع کا اختیار ہونا چاہیے تھا وہاں اس کا یہ اختیار دو طلاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔چونکہ یہ امر اس فلسفہ کے بالکل خلاف ہے۔جو حدود میں رکھا گیا ہے کہ غلام کی سزاؤں میں کمی کا باعث یہ ہے کہ اس میں فطری نقائص کی وجہ سے آزاد کی نسبت احساس ذمہ داری کم ہوتا ہے۔اس لئے اس کے جرائم کی سزا بھی آزاد سے کم ہونی چاہئے۔مگر اس مسئلہ میں غلام کے فطری نقائص کے باوجود اس پر تخفیف کی بجائے تشدید کی گئی ہے۔ہذا یہ کہنا درست نہ ہوا کہ طلاق کی تعداد میں کمی کا قیاس حدود پر کیا گیا ہے۔اس بحث کے بعد ابن بشر مسئلہ طلاق کا فلسفہ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔شریعت نے اسلامی احکام میں درمیانہ راہ اختیار کیا ہے۔مثلا طلاق کے مسئلہ میں اگر شریعت مرد کو ہمیشہ کے لئے رجوع کا حق دیتی تو اس سے عورت کو بہت زیادہ تکلیف اور شقت برداشت کرنی پڑتی یعنی مرد عورت کو تنگ کرنے کے لئے ہمیشہ طلاق دیتا رہتا اور جب عدت ختم ہونے کو ہوئی تو رجوع کر لیتا۔اسی طرح اگر ایک طلاق کے بعد ہی طلاق بائن واقع ہو جاتی تو اس سے خاوند کو بہت زیادہ تکلیف اور مشقت برداشت کرنی پڑتی کیونکہ اس صورت میں اسے ندامت اور رجوع کا موقعہ ہی نہ ملتا۔اس لئے شریعت نے درمیانہ راستہ اختیار کیا ہے یعنی تین منظر میں طلاقوں کو بائن طلاق قرار دیا۔اور صرف تیسری طلاق تک حدت کے اندر مرد کو رجوع کا اختیار دیا۔بالآخر ابن رشد فرماتے ہیں کہ یہی وہ حکمت ہے جس کی بناء پر ہم یہ کہتے ہیں جس نے ایک وقت میں تین طلاقوں کو تین متفرق طلاقوں کے برابر قرار دیا اس نے شریعت کی حکمت کو ہی باطل کر دیا۔له ابن رشد کا یہ خیال درست ہے کیونکہ ایک وقت میں تین طلاقیں دینا مسنون طر سنون طریق کے خلاف ہے اس لئے ایسی