ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 137
۱۳۷ طلاق بھی رجعی طلاق وہ ہے جس میں خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہو بغیر اس کے کہ بیوی کو اس سے انکار کا اختیار ہو طلاق رہمی کے لئے یہ شرط ہے کہ بیوی ایسی ہو جس سے تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں۔اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاحْصُوا العِدة سے طلاق رجعی کو سمجھنے کے لئے مت درجہ ذیل امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔اس جگہ طلاق رجعی سے مراد وہ طلاق ہے جس کے بعد خاوند عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے۔ایسی طلاق کے لئے یہ ضروری ہے کہ شادی کے بعد بیوی سے تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں کیونکہ رجوع تو عدت میں ہوتا ہے اور مجامعت سے قبل جو طلاق دی جائے اسکی کوئی عدت نہیں ہوتی۔جیسا کہ اللہ تعالے نے فرمایا :- يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا إِذَا نَكَحْمُ الْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ طَلَقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتَّعُوهُنَّ وَسَبِّحُوهُنَّ سَرَ احَا جَمِيلًاه ترجمہ : اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے شادی کرو پھر ان کو ان کے چھونے سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کوئی حتی نہیں کہ ان سے عدت کا مطالبہ کرو۔پس چاہیئے کہ اُن کو کچھ دنیوی نفع پہنچا دو۔اور ان کو عمدگی کے ساتھ رخصت کر دو۔( احزاب ہے) رجعی طلاق کے بعد خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق دیا گیا ہے اور اگر خاوند رجوع کرنا چاہیے تو بیوی کو اس سے انکار کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وبعولتهُنَّ اَحَقُ بِرَدِهِنَ فى ذلِكَ إِنْ أَرَادُوا اِصلاح و بقروح اس میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر ان کے خاوند باہمی اصلاح کا ارادہ کریں تو وہ اس مدت عقوت کے اندر اند یہ ان کو اپنی زوجیت میں واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔خاوند کو اس قسم کی دو طلاقیں دینے کا اختیار ہے یعنی وہ دو دفعہ طلاق دیگر رجوع کر سکتا ہے۔جب تیسری دفعہ طلاق دے گا۔تو اس وقت اسے رجوع کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔ان با حکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اصل منشاء یہ ہے کہ طلاق کے ذریعہ سے جدائی کے امکان است کو کم کیا جائے اور صلح اور رجوع کے امکانات کو بڑھایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حلال امور میں سے سب سے کم درجہ کا حلال حکم طلاق کا حکم ہے۔ترجمہ : اے نبی (اور اس کے ماننے والوں جب تم بیویوں کو طلاق دو تو ان کو مقررہ وقت کے مطابق طلاق روا کا اندازہ رکھو۔(طلاق ع )