ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 133
١٣٣ کی عمومی بنی ہے۔اور دوسری طرف ایک اور روایت میں خصوصی اجازت بھی ملتی ہے۔ان دونوں روایات میں اختلاف کی بناء پر مذاہب میں اختلاف واقع ہوا ہے۔عمومی روایت یہ ہے :- عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ فِى خُطْبَتِهِ كُلَّ شَيْءٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ فَهُوَ بَاطِل وَلَوْ كَانَ مِأَنَةَ شَرْطِ خصوصی جواز کی روایت عقبہ بن عامر کی ہے۔GALE GE صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انَّهُ قَالَ أَحَقُّ الشُّروط ان يوق به ما اسْتَمْلتُم بِهِ الْفُرُوج له این رشد لکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا روایات صحیح ہیں لیکن فقہ کے لحاظ سے عمومی نی کی روایات پر خصوصی جواز کی روایات کو ترجیح حاصل ہوگی۔کے ترجمہ: حضرت عائیشہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھا اور فرمایا ہر وہ شرط جو اللہ تعالے کی کتاب میں نہیں ہے وہ باطل اور نا جائز ہے۔اگر چه ایسی نتوش میں ہی کیوں نہ ہوں۔ترجمہ :۔وہ شرائط جن کی وجہ سے تم اپنی بیویوں کی شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو ان کو پورا کرنا زیادہ مناسب ہے۔و مسلم اياب الوفاء بالشروط في النكاح )