ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 118
١١٨ نفقہ واجب ہے بشرطیکہ خلوت صحیحہ ہو چکی ہو۔امام شافعی کے نزدیک اگر خاوند بالغ ہو اور بیوی غیر بالغ ہو تو اس صورت میں ان کا ایک قول تو امام مالک کے موافق ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کے لئے نفقہ واجب ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ نفقہ اس وجہ سے واجب ہے کہ خاوند بیوی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔یا اس وجہ سے واجب ہے کہ بیوی کی عصمت خاوند کے ساتھ وابستہ ہے۔اور وہ اس کے قبضہ میں ہے۔جیسا کہ غائب اور مریض پر نفقہ واجب ہوتا ہے باوجود اس کے کہ وہ اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔مقدار نفقہ | امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک شریعت میں مقدار نفقہ کی کوئی تعیین نہیں ہے۔اور یہ امر خاوند بیوی اور ملکی حالات پر بنی ہے۔اور یہ مقدار مختلف حالات اور مختلف اوقات میں اس ملک کے معیار زندگی کے مطابق کم وبیش ہوتی رہتی ہے۔امام شافعی کے نزدیک اس کی شرعی مقدار مقرر ہے اور وہ یہ ہے کہ امیر آدمی پر دونده متوسط پر وائد اور غریب آدمی پر ایک مذ فلہ روزانہ کے حساب سے ہے۔وجہ اختلاف یہ اختلاف اس وجہ سے ہے کہ بعض نے نفقہ کو کفارات میں طعام کی مقدار پر قیاس کیا ہے اور بعض نے کفارات میں لباس پر جس نے نے ایک مد کا وزن ۶۸ تو در ۳ ماشہ کے برابر ہے۔گویا ایک مر تقریباً ساڑھے ۱۳ مسیر کے برابر ہوتا ہے۔کفارہ سے مراد یہ ہے اگر کوئی شخص کسی شرعی حکم کو حمد توڑ دے تو شریعیت نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ وہ دوسرے طریق سے اس کی تلافی کرے۔مثلاً اگر کوئی شخص بلا عذر قسم کھا کر توڑ دے تو اس کے لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا لباس دنے یا غلام آزاد کرے اور اگر ان کی توفیق نہ ہو تو تین روزے رکھے۔