ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 119
۱۱۹ لباس پر قیاس کیا اس کے نزدیک اس کی کوئی شرعی مقدار نہیں ہے۔جیسا کہ لباس کی کوئی تعیین نہیں ہے۔جس نے اس کو طعام پر قیاس کیا اس کے نزدیک اس کی مقدار کی تجین ہونی چاہیئے جیسا کہ کفارات میں طعام کی مقدار معین ہے۔ایک اور اختلاف اس بارہ میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کیا بیوی کے نفقہ کے علاوہ خاوند پر اس کے خادم کا نفقہ بھی واجب ہے یا نہیں۔اور اگر واجب ہے تو کتنے خدام کا نفقہ واجب ہے ؟ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اگر بیوی خادم کے ذریعہ ہی گھر کا کام کرتی ہے تو اس صورت میں خادم کا نفقہ بھی واجب ہوگا۔ایک قول یہ بھی ہے کہ چونکہ گھر کے کام کی ذمہ واری بیوی پر ہی ہے اس لئے خادم کا نفقہ نہیں دیا جائے گا۔جو لوگ خادم کے نفقہ کے قائل ہیں ان کے نزدیک اگر بیوی گھر میں ایک خادم سے کام لیتی ہے تو ایک خادم کا لفقہ واجب ہوگا۔اور اگر دو خادموں سے کام لیتی ہے تو دو خادموں کا نفقہ واجب ہوگا۔یہ مذہب امام مالک۔اور ابو ثور کا ہے۔امام ابن رشد فرماتے ہیں کہ مجھے اس مذہب کی کوئی اور دلیل نہیں ملی سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ گھر کے خادموں کا نفقہ سکنی میں شامل ہے۔اور سکنی " کے متعلق نص صریح موجود ہے جس کا مطلقہ کو حق ہے۔بشرطیکہ وہ آزاد ہو اور 16 نے سکتی کے لئے رہائیش کی میگہ اور اس کے لوازمات ہیں۔اس بارہ میں نص صریح کیے ہے اشكو هُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وَجْدِكُمْ (یعنی اے مسلمانوں مطلقہ عورتو کے حق کو نہ بھولوم ان کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی طاقت کے مطابق رہتے ہو ( طلاق انعام اس نص کے رو سے جس کو اپنے گھر میں خادموں کے رکھنے کی طاقت ہو وہ بیوی کے خادموں کے اخراجات بھی دے گا۔