ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 113
۱۱۳ امام ابو حنیفہ اور ثوری کے نزدیک اس وجہ سے بیوی کو فتح نکاح کا اختیار نہ ہوگا۔اور یہی اہل ظاہر کا مذہب ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک خاوند کا نان و نفقہ کی ادائیگی کی توفیق نہ ہونے کی مثال ایسی ہے جیسے خاوند عنین (نامرد) ہے۔چونکہ جمہور اس بات کے قائل ہیں کہ عورت کو عنین سے فسخ نکاح کا حق حاصل ہے۔اس لئے ان کے نزدیک اس صورت میں بھی اسے فتح نکاح کا حق حاصل ہوگا۔بعض کے نزدیک خاوند کا نان و نفقہ کی ادائیگی اس لئے واجب ہے کہ وہ اس سے حقوق زوجیت حاصل کرتا ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ ناشزہ عورت نان و نفقہ کی حقدار نہیں ہوتی پس جب تک وہ تعلقات زوجیت سے اپنے آپ کو روک رکھے اس وقت تک وہ نفقہ کی حقدار نہیں۔پس اس کے مقابلہ میں اگر کوئی خاوند نان و نفقہ کی ادائیگی نہ کرے تو اسکی بیوی کو بھی یہ حق ہونا چاہیئے کہ وہ اس وقت تک اسے تعلقات زوجیت قائم کرنے کی اجازت نہ دے۔جو لوگ اس مسئلہ میں قیاس کے قائل نہیں ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ چونکہ بیوی کی عصمت اپنے خاوند کے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے اس لئے وہ بغیر کسی ایسے حکم کے جو قرآن یا حدیث میں نہ ہو ٹوٹ نہیں سکتی۔مفقود الخبر کی بیوی ایسا مفقود الخبر خاوند جس کی زندگی یا موت کے متعلق یقین نہ ہو لیکن وہ اسلامی حکومت میں ہی ہو تو اس کے متعلق اختلاف ہے کہ اسکی بیوی شیخ نکاح کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں ؟