ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 102
١٠٢ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔كَيْفَ يَسْتَعْبِدُهُ وَقَدْ عَذَاةَ فِي سَمْعِهِ وَبَصَرِ اللهِ زوجیت اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ مسلمانوں اور ذمیوں کا نکاح منکوحہ عورت کو دوسرے لوگوں پر حرام کر دیتا ہے۔لونڈیوں کے متعلق اختلاف ہے کہ کیا اس کی بیچ ہی طلاق کے قائمقام ہے یا نہیں ؟ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ محض بیچ طلاق کے قائمقام نہیں ہوتی۔ایک قوم کا مذہب یہ ہے کہ بیچ طلاق کے قائمقام ہے۔اور یہ روایت ابن حیان جابر ابن مسعود اور ابی ابن کعب کی ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب حدیث بریرہ اور ایک عام حکم کا باہم اختلاف ہے۔عام حکم تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔الا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اس حکم میں گرفتار شدگان اور فروخت شدگان دونوں شامل ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی لونڈی فروخت ہو کر دوسرے مالک کے پاس آجائے تو پہلے مالک کی طرف سے خود بخود طلاق ہو جائے گی۔حدیث بریرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ محض اس کی بیع سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔اور وہ روایت یہ ہے کہ ہر یہہ کو حضرت عائشہؓ نے اس کے خاوند سے خرید لیا اور اس کے بعد اسے آزاد کر دیا۔اس آزادی کے بعد آنحضرت صلعم نے بریرہ کو اختیار دیا کہ چاہے تو اپنے خاوند کے عقد میں رہے چاہے تو اس عقد کو فتح کر دے۔اس اختیار سے معلوم ہوا کہ جب حضرت عائٹ کرنے بریرہ کو خرید لیا تھا تو محض له ترجمہ : درسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وہ شخص اس کو اپنا غلام کس طرح بنا سکتا ہے جبکہ اس کے کان اور آنکھوں کو اس کے نطفہ سے غذا حاصل ہوئی ہے۔