ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 94 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 94

۹۴ اس کی اجازت مرحمت فرمائی۔کتابیہ (آزاد) کے متعلق جمہور فقہار کا مذہب یہ ہے کہ اس سے نکاح کرتا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک ارشاد وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَ ہے لیکن اس کے بعد ایک اور حکم والمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الْكِتَبِ کہ کر دیا گیا ہے گویا پہلے حکم سے دوسرے حکم کو مستثنی کیا گیا ہے۔یعنی پہلی آیت میں مطلق مشرک عورتوں سے نکاح کرنا منع فرمایا ہے لیکن دوسری آیت میں اہل کتاب کو مستثنی فرمایا گیا ہے۔جس کے نزدیک کتابیہ (آزاد) سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے اس نے ان آیات کے متعلق یہ جواب دیا ہے کہ عام حکم دینی ولا تُنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ خاص حکم یعنی وَالْمُحْصَلَتُ مِنَ الَّذِينَ أوتُوا الكِتب ) کے لئے ناسخ ہے اس لئے اس پر عملدرآمد نہ ہوگا۔کتابیہ لونڈی سے نکاح کرنے کے متعلق اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ایک عام حکم اور قیاس میں باہم تعارض ہے۔قیاس یہ ہے کہ چونکہ کتابیہ (آزاد) سے نکاح کرنا قرآن مجید اور دیگر ادلہ سے ثابت ہے تو اس پر قیاس کرتے ہوئے کتابیہ (لونڈی سے بھی نکاح کرنا جائز ہونا چاہیئے۔عام حکم یہ ہے کہ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الكَوافِر۔اس کا تقاضا یہ ہے کہ کا فرعورت خواہ کتابیہ ہو یا غیر کتابیہ - آزاد ہو یا لونڈی سی سے نکاح نا جائز ہے۔اس اختلاف کا ایک اور سبب یہ ہے کہ ایک طرف دلیل خطاب ہے اور دوسری طرف قیاس ہے۔دلیل خطاب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمُ طَوْلا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَتِ اہے وہ پاکدامن عورتیں جو اہل کتاب میں سے ہیں تمہارے لئے جائز ہیں) (مائدہ غ) ہ اس بارہ میں جمہور کا مذہب درست ہے کیونکہ قرآن مجید میں ناسخ و منسوخ کا مسئلہ بے بنیاد ہے۔