ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 79
49 ہو جاتا ہے اور حدیث جو اوپر گزر چکی ہے اس کے الفاظ الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَيَّة) کی عمومیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک ماں کا دودھ بیچے کی غذا ہے اس وقت تک وہ رضاعت کے عرصہ میں ہے خواہ یہ دو سال کے عرصہ کے اندر ہو یا بعد۔اور یہ عرصہ حرمت کا حکم رکھتا ہے۔دودھ پینے کا طریق | سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ بچہ دودھ کو عام طریق سے ہی ماں کے پستان سے پوسے یا اگر کسی اور طریق سے بھی اس کے حلق سے اُتار یا دیا جائے تو اس سے بھی حرمت لازم آجاتی ہے؟ امام مالک کے نزدیک دودھ بچے کے حلق میں ڈال دینے سے بھی حرمت لازم آجاتی ہے۔لیکن عطاء اور داؤد کے نزدیک عام عادت کے مطابق پینا ضروری ہے پس جس کے نزدیک رضاعت کا اصل مفہوم یہی ہے کہ بچہ پستان سے ہی دودھ چوسے اس کے نزدیک اگر اس کے پیٹ میں کسی اور طریق سے دودھ چلا جائے تو حرمت لازم نہیں آتی لیکن میں کے نزدیک رضاعت کا مفہوم عام ہے اس کے نزدیک خواہ کسی صورت میں بچہ کے پریٹ میں دودھ چلا جائے حرمت لازم آئے گی۔ملاوٹ والا دودھ اگر بچہ رضاعت کے ایام میں ایسا دودھ پی لے جس میں پانی یا کسی دوسرے دودھ کی ملاوٹ ہو تو کیا اس سے بھی حرمت لازم آتی ہے یا نہیں ؟ ابن القاسم کا مذہب یہ ہے کہ اگر بچہ ایسا دودھ پی لے جس میں پانی وغیرہ کا غلبہ اس قدر ہو کہ اس پر دودھ کا اطلاقی نہ ہو سکے تو حرمت لازم نہیں آتی رہی اہب امام ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب کا ہے۔امام شافعی ابن حبیب - مطرف اور اصحاب مالک میں سے ابن الماجشون کا مذہب یہ ہے کہ اس سے بھی حرمت لازم آتی ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک ایسے دورہ پر بھی لفظ دو کا اطلاق ہوتا ہے جس میں پانی یا کسی اور دودھ کی ملاوٹ ہو۔اور ان دونوں کا ہم ایک ہی ہے